Chief Secretary

چیف سیکرٹری نے ’’ ڈسٹرکٹ گُڈ گورننس انڈکس ‘‘ کے نفاذ کی منظوری دی

سرینگر //سمارٹ گورننس کو نافذ کرنے اور محکمہ انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات ( ڈی اے آر پی جی ) حکومت ہند اور جموں و کشمیر انتظامیہ کی طرف سے کی جانے والی مختلف مداخلتوں کی گورننس کی حثیت کا جائیزہ لینے کے مقصد سے منتخب اشارے اور پیرا میٹرز کی بنیاد پر اضلاع میں حکمرانی حثیت کی پیمائش کیلئے ایک مشق شروع کی گئی ۔ چیف سیکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے اس سلسلے میں آج مرکزی اسپیشل سیکرٹری ڈی اے آر پی جی وی سرینواس کے ساتھ آن لائین اعلیٰ سطحی میٹنگ بلائی ۔ ڈائریکٹر جنرل جے اینڈ کے امپارڈ سوربھ بھگت ، ڈائریکٹر ٹریننگ جے اینڈ کے امپارڈ ڈاکٹر ریوا شرما ، ڈائریکٹر جنرل معاشیات اور شماریات ، ڈائریکٹر جنرل بجٹ اور دیگر اعلیٰ افسران نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اس وقت 10 ترقیاتی شعبے ، 58 انڈیکیٹر اور 116 ڈیٹا سیٹ حکومت جموں و کشمیر کی طرف سے منظور کئے گئے ہیں ۔ ہر ضلع کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ، قومی اور یو ٹی کی مخصوص ترجیحات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہر انڈیکیٹرکو وزن دیا گیا ۔ شماریاتی ماڈل کے اطلاق کے بعد ، ضلعی گُڈ گورننس انڈیکس تشکیل دیا گیا اور اضلاع کی درجہ بندی کی گئی اور اضلاع کو ایک جامع درجہ بندی بھی تفویض کی گئی ۔ ڈیٹا کولیشن اور توثیق کے عمل کو مکمل کرنے کے بعد انڈیکس جنوری /فروری 2022 میں شائع کیا جائے گا اور جموں و کشمیر ڈی جی جی آئی کو نافذ کرنے والا بھارت کا پہلا یو ٹی بن جائے گا ۔ ممکن ہے کہ اسے ڈی اے آر پی جی کے ذریعہ پورے ہندوستان میں اپنایا جائے تا کہ بہترین عمل کی نقل ہو ۔ میٹنگ کے دوران ڈائریکٹر سنٹر فار گُڈ گورننس ( سی جی جی ) حیدرآباد ڈاکٹر شبیر شیخ نے ’’ ڈسٹرکٹ گُڈ گورننس انڈیکس ( ڈی جی جی آئی ) کی ترقی ‘‘ پر ایک پرذنٹیشن دی ۔