سانبہ//چیئرپرسن جموں و کشمیر کھادی اینڈ وِلیج اِنڈسٹریز بورڈ (کے وی آئی بی) ڈاکٹر حنا شفیع بٹ نے آج پالی سانبہ میں تعلیم یافتہ بے روزگارنوجوانوں اور خواہشمند کاروباریوں کے ساتھ بیداری کیمپ و اِستفساری سیشن کی صدارت کی۔ اِس پروگرام میں سیکرٹری و سی اِی او جموں و کشمیر کھادی اینڈ وِلیج اِنڈسٹریز بورڈ ڈاکٹر جگدیش چندر، ایگزیکٹیو آفیسر جموں و کشمیر کھادی اینڈ وِلیج اِنڈسٹریز بورڈ ڈاکٹر سندیپ کوتوال، ضلع آفیسر سانبہ اور جموں، پی آر آئی کے نمائندوں اور بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں اور خواہشمند کاروباریوں نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حنا شفیع بٹ نے کاروباریوں پر زور دیا کہ وہ سرکاری سکیموں کے تحت فراہم کردہ مواقع سے فائدہ اُٹھائیں اور اَپنے مائیکرو اَنٹرپرائزز کے قیام کے سفر کا آغاز کریں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ روزگار پیدا کرنے کے پروگرام جیسے پرائم منسٹرز ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام اور جے کے رورل ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام کو عوام کو بااِختیار بنانے کے معاشی آزادی کو فروغ دینا اور مثبت تبدیلی لانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے جموںوکشمیر یوٹی میں روزگار کے مواقع پر بامعنی اثر ڈالنے کے لئے شراکت داروں کی فعال شمولیت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔سیکرٹری موصوفہ نے بھی اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مختلف سکیموں میں نوجوانوں کی شرکت کی ضرورت پر زور دیا جس کا مقصد ان کی سماجی و اِقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اُنہوں نے فعال شمولیت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اُن پر زور دیا کہ وہ بورڈ کی جانب سے فراہم کردہ مواقع سے فائدہ اُٹھائیں۔اُنہوں نے اِن اَقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کمیونٹیوں کی ترقی اور اَفراد کو بااِختیار بنانے کی ان کی صلاحیت پر زور دیا۔میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ گذشتہ تین برسوں اور رواں مالی برس کے دوران ضلع سانبہ میں 593 یونٹوں کے قیام کے لئے 13.07 کروڑ روپے کی مارجن منی جاری کی گئی ہے۔بورڈاَفسران نے دورانِ پروگرام جے کے آر اِی جی پی اور پی ایم اِی جی پی کی عمل آوری میں شامل طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی پرزنٹیشن دی۔شراکت داروں اور عوام کو بتایا گیا کہ یہ سکیمیں آن لائن ہیں اور خواہشمند کاروباری اَفراد اِن سکیموں کے تحت مالی معاونت کے لئے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔بعد ازاں، چیئرپرسن نے پی ایم ای جی پی اور جے کے آر ای جی پی سکیموں کے تحت بورڈ کی جانب سے سپانسر کردہ اِی ۔رِکشوں کی ریلی کا اِفتتاح کیا۔ اُنہوں نے شرکأ بالخصوص خواتین کے جوش وجذبے کو سراہتے ہوئے متعلقہ اَفسران کو مشورہ دیا کہ وہ علاقے میںشعورِ بیداری اور حساسیت پیدا کریں تاکہ اِس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ زیادہ سے زیادہ اُمیدواروں کو سرکاری سکیموں کے تحت شامل کیا جائے۔










