چھ سو میٹرک ٹن روزآنہ تیار کرنے والی سیمنٹ فیکٹری تباہی کے دہانے پر

سرینگر//ہر دن چھ سو میٹر ک ٹن سیمنٹ تیار کرنے والی جموںو کشمیرسیمنٹ فیکٹری تباہی کے دہانے پرکئی ماہ سے جے کے سیمنٹ لیمیٹیڈ پرتالاچڑھاہوا ہے سینکڑوں کارکن بیروزگاری کاشکار اور فیکٹری تین ہزار کروڑ ی مقروض۔اے پی آ ئی کے مطابق جموںو کشمیر سرکاری خزانے کے لئے ایک وقت سونے کاانڈا دینے والی جموں کشمیرسیمنٹ فیکٹری تباہی کے دہانے پرپہنچ گئی ہے اورفیکٹری کے بندہونے سے اب اس کارخانے میں سیمنٹ کاایک بیگ بھی بازار میں فروخت کرنے کے لئے پائیدار نہیں ہورہاہے چندبرس پہلے جے کے سیمنٹ لیمٹیدنامی یہ فیکٹری ہرد ن چھ سو میٹرک ٹن سیمنٹ پیدا کرکے بازار میں لاتی تھی اور جے کے سیمنٹ فیکٹری کو نہ صرف جموںو کشمیرمیں بلکہ ملک کی دوسری ریاستوں ی بھی پذرائے حاصل تھی اس سے سرکار ی غیرسنجیدگی کہے یااس فیکٹری میں کام کرانے والے لوگوں کی بدقسمتی کہ منافے پرچلنے والی یہ فیکٹری جب پہلی بارتین سوکروڑ روپے کی خسارے کاسامناکرناپڑا تو ماہرین نے حکومت کومشورہ دیاکہ سیمنٹ فیکٹری کی طرف توجہ دی جائے اور جان بوجھ کراس منافہ بخش یونٹ کونیست نابودکرنے کی شروعات کی گئی ہے چندماہ گزر گئے کہ ایک اور انکشاف ہوا کہ جے کے سیمنٹ فیکٹری کوچھ سو کروڑ روپے کے مالی خسارے سے دوچار ہوناپڑا تب اس وقت کی حکومت نے سیمنٹ فیکٹری کوپھر سے چالو کرانے کے لئے اقدامات اٹھانے کایقین دلایافیکٹری کے لئے نئے ذمہ داوں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی اسکی پیداوارکی صلاحیت کوبڑھانے کی صلاحیت دی گئی لیکن سیمنٹ؁ فیکٹر ی اندر سے کھوکھلاہوگئی تھی اور سیمنٹ فیکٹر ی کی پیداوارآہستہ آ ہستہ کم ہوتی گئی اور اس فیکٹری میںکاکرنے والے کارکنوں کوجہاں روزی روٹی کے لالے پڑے گئے وہی انہیں فاقہ کشی سے بھی گزرنا پڑابا لاآخرسیمنٹ فیکٹری کوہی بندکردیاگیااور اس پرتالے چڑھا دیئے گئے اور بتایاجاتاہے کہ جے کے سیمنٹ فیکٹری اس وقت تین ہزار کروڑ کی مقروض ہے اور اس فیکٹری کے دوبارہ چالو ہونے کے امکانات دوردورتک دکھائی نہیں دے رہے جموںو کشمیرمیں بالعموم اور وادی کشمیرمیں بالخصوص صنعتیں آہستہ آہستہ زوال پذیرہوتی جارہی ہے قالین بافی ،نمدہ سازی، شال بافی، پیپرمعاشی ،وڈکارونگ کی صنعتیں بھی زوال پزیرہوگئی ہے اوراب سیاحت کی صنعت ہچکولے کھارہی ہے میوہ صنعت ہرسال خسارے سے دو چار ہورہی ہے اوران صنعتوں کے زوال پذیرہونے کی وجہ سے وادی کشمیرمیں لوگ اقتصادی معاشی بد حالی کے شکار ہوتے جارہے ہے ۔کوئی بھی سرکار یاکسی بھی انتظامیہ کی جانب سے ان صنعتو ں کے اندر نئی روح پھونکنے اور انہیں پھر سے زندہ کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی بلکہ اس سلسلے میں زبانی جمع خرچ کے سواور کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ایہی وجہ ہے کہ آج جے کے سیمنٹ فیکٹری میں کام کرنے والے سینکڑوں کارکن دردر کی ٹھوکرے کھارہے ہے سرکاری خزانہ ہردن لاکھوں روپے کی آمدانی سے محروم ہوگیاحالانکہ جے کے سیمنٹ فیکٹری کے متصل قائم کی گئی ایک سیمنٹ فیکٹری دن دوگنی رات چوگنی ترقی کررہی ہے اگرچہ وہ پرایئویٹ ادارہ ہے جس سے خام مال یادوسری سہولیات حاصل کرنے کے لئے مشکلوں کاسامناکرناپڑتاہے اسکے برعکس جے کے سیمنٹ فیکٹری جس سے سرکا رکی پشت پناہی حاصل تھی کیسے تباہی کے دہانے پرپہنچ گئی یہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔