پہاڑوں پر رواں موسم کی پہلی برفباری ،ٹنل کے آر پار اور خطہ چناب موسلا دار بارشیں

27گست کی صبح سے موسمی صورتحال میں بہتری آنے کا امکان / محکمہ موسمیات کی پیشگوئی

سرینگر/ سی این آئی // دراس ، زنسکار اور سمتھن ٹاپ پر رواں موسم کی پہلی ہلکی برفباری کے بیچ ٹنل کے آر پار اور خطہ چناب کے علاقوں میں مسلسل دوسرے روز بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں معمول کی زندگی متاثر رہی ۔ مسلسل بارشوں کے نتیجے میں جموں اور خطہ چناب کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پید ا ہو چکی ہے ۔ جموں کے متعدد علاقوں میں بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے رہائشی ڈھانچوں ، سڑکوں اور پلوں کو کافی نقصان پہنچ گیا ہے ۔ موسلا دار بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی آئی جبکہ جہلم کے پانی میں بھی اضافہ ہو گیا ہے ۔ بارشو ں کے نتیجے میں گرمی کی لہر میں کمی ریکارڈ کی گئی جس کے ساتھ ہی لوگوں نے راحت کی سانس لی۔ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق مزید بارشیں ہونے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے 27اگست سے موسم میں بہتر ی آنے کی پیشگوئی کی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق شدید ترین گرمی کے بعد سنیچروار کی شام دیر گئے موسمی صورتحا ل میں اچانک تبدیلی آئی اور شہر سرینگر سمیت وادی کے شمال و جنوب میں موسلا دار بارشیں ہوئی ۔جس کا سلسلہ اتوار کو بھی دن بھر جاری رہا ۔ شہر سرینگر سمیت وادی کے دوسرے اضلاع میں اتوار کو مسلسل دوسرے روز بھی بارش ہوئی جس کے نتیجے میں گرمی کازور ٹوٹ گیا اور لوگوں نے راحت کی سانس لی ۔ ا س دوران ندی نالوں اور دریائوں میں پانی کی مقدار کافی کم ہونے کے نتیجے میں کسان اور زمیندار بھی پریشان تھے اور آج کی بارش سے ندی نالوں اور دریائوں و جھیلوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہونے سے کسان و زمیندار وں کے چہروں پر بھی خوشی ظاہر ہوئی ۔ شہر سرینگر سمیت وادی کے شمال و جنوب میں دوسرے روز بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ وادی میں تازہ بارشوں سلسلہ شروع ہواجس کی وجہ سے معمول کے درجہ حرارت میں پھر سے ایک بار کمی واقع ہوئی۔ سرینگر سمیت وادی کے دوسرے علاقوں میںوقفہ وقفہ سے بارشیں ہوتی رہیں ۔بارشوں کے نتیجے میں معمول کی سرگرمیوں میں خلل پڑا۔ نمائندے کے مطابق موسم کی غیر یقینی صورتحال اور بارشوں کے نتیجے میں اہلیان وادی نے گرمی کی شدت ترین لہر سے راحت حاصل کی جبکہ موسلا دار بارشوں کے نتیجے میں شمالی و جنو بی کشمیر کے اکثر و بیشتر ندی نالوں میں پانی کا بہاو تیز ہوگیا۔اسی دوران جموں میں بھی مسلسل بارشوں کے نتیجے میں کئی علاقوںمیں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے ۔حکام کے مطابق جموں و کشمیر کے بیشتر حصوں میں رات بھر موسلا دھار بارش ہوئی، جس سے کئی نشیبی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی اور جموںپٹھانکوٹ شاہراہ پر ایک اہم پل کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ جموں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 190.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو ایک صدی میں اس مہینے کی دوسری سب سے زیادہ بارش ہے۔ اگست کیلئے سب سے زیادہ بارش 228.6 ملی میٹر ہے، جو 5 اگست 1926 کو ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ اس سے پہلے کی دوسری سب سے زیادہ بارش 11 اگست 2022 کو 189.6 ملی میٹر تھی۔انہوں نے کہا کہ جموں شہر میں موسلادھار بارش کی وجہ سے معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئے جس کی وجہ سے نالوں اور نالے بہہ گئے، جس سے جانی پور، روپ نگر، تالاب تلو، جیول چوک، نیو پلاٹ اور سنجے نگر سمیت کئی مقامات پر سڑکیں زیر آب آ گئیں اور سیلابی پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔حکام نے بتایا کہ کئی مکانات کی چاردیواری کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ تقریباً ایک درجن گاڑیاں اچانک سیلاب میں بہہ گئیں۔حکام نے بتایا کہ ابھی تک کسی جانی نقصان کی کوئی فوری اطلاع نہیں ہے، لیکن بارشوں نے جموں کے علاقے راجوری اور پونچھ اور شمالی کشمیر کے گریز میں کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کی ہے۔ا دھر محکمہ موسمیات نے منگل کی شام تک مزید بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات سے موسم میں بہتری آنے کا امکان ہے ۔