جیش کا اعلیٰ کمانڈر سمیت 4 جنگجو ازجان
سری نگر//وادی کشمیر میں تین مقامات پر شبانہ تصادم آرائیوں میں ایک غیر ملکی کمانڈر سمیت 4جنگجوئوں تصادم آرائیوں میں مارے گئے ہیں ۔پولیس نے بتایا جنوبی ضلع پلوامہ ، وسطی ضلع گاندربل اورشمالی کشمیر کیضلع کپوارہ کے ہندواڑہ میں شبانہ تصادم آرائیوں کے دوران فورسز نے جیش اور لشکر طیبہ سے وابستہ 4 جنگجووں جاں بحق جبکہ ایک کوپستول سمیت زندہ گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔اس دوران انسپکٹر جنرل آف کشمیر پولیس زون وجے کمار نے بتایاپلوامہ انکونٹر میں ایک کمانڈر مارا گیا ہے اس کی ہلاکت کے ساتھ ہی یہاں جیش ختم ہوئی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا دہی نمائندے سافٹ ٹارگٹ ہو تے ہیں کیوں 90فیصد دہی نمائندوں کے پاس پی ایس اونہیں ہے ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق پولیس کے ایک ترجمان نے سنیچرکی صبح بتایا کہ جنوبی ضلع پلوامہ کے چیوا کلان علاقے میںجمعہ کی رات شروع ہونے والی جھڑپ رات بھر جاری رہی ہے جس میں جیش کے ایک اعلیٰ کمانڈر سمیت2جنگجوجاں بحق ہوئے ہیں جبکہ پولیس نے اس انکونٹر میں ایک جنگجو کے پستول سمیت گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے بتایا جاتا ہے اس تصادم کے دوران یہاں کے ایک دارالعلوم کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔آئی جی کشمیر وجے کمارمیڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا پلوامہ انکونٹر میں ایک مقامی جیش کمانڈر اور ایک پاکستانی ملی ٹینٹ مارا گیا ہے ۔انہوں نے پاکستانی ملی ٹینٹ کی شناخت خالد بھائی ،جھٹ کے طور کی ہے جو2018سے آج تک شوپیان اور پلوامہ میں سرگرم تھا۔یاقب مشتاق کے طور کی ہے انہوں نے بتایاکمانڈر زاہد وانی کی ہلاکت کے بعد یاقب کو ضلع کمانڈر بنایا گیا تھا جو قریم آباد سے تعلق رکھتا تھا انہوں نے کہا کریم آباد ایک زمانے میں جیش کا گڑ تھا اور آج کل وہاں کوئی نہیں بچھا ہے آئی جی پی نے بتایا اس لائیو انکونٹر میں روف احمد میر نامی ایک ملی ٹینٹ کوپستول سمیت زندہ گرفتار کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مہلوک ملی ٹینٹ جیش سے وابستہ ہے اور اْن کی تحویل سے اسلحہ وگولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔ادھر شمالی کشمیر ضلع کپوارہ کے راجوار ہندوارہ میں درمیانی رات کوعلاقے میں ملی ٹینٹوں کے چھپے ہونے کی ایک خاص اطلاع موصول ہونے کے بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز نے اس علاقے کو اپنے محاصرے میں لے کر اْنہیں ڈھونڈ نکالنے کے لئے تلاشی کارروائی کا آغاز کیا۔ تو اسی دوران خود کو سلامتی عملے کے گھیرے میں پا کر ملی ٹینٹوں نے اندھا دھند گولیاں برسا کر فرار ہونے کی بھر پور کوشش کی ہے اس دوران فورسز نے بھی جوابی فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میںفورسزنے اْنہیں فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔کچھ وقت تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں ایک جنگجو مارا گیاجس کی شناخت پولیس نے فوری طور ظاہر نہیں کی ہے تاہم انہوں نے بتایا مارا گیا جنگجولشکر طیبہ سے تعلق رکھتا ہے۔دریں اثنا وسطی ضلع گاندربل کے نونر علاقے میں بھی سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے مابین تصادم آرائی میں ایک لشکر ملی ٹینٹ ہلاک ہوا ۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر رینج وجے کمار نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز اور پولیس نے مشترکہ طورپر جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات کو جنوبی ، شمالی اور وسطی کشمیر میں تین مقامات پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا جس دوران جیش اور لشکر طیبہ سے وابستہ 4 ملی ٹینٹ مارے گئے۔تاہم یہاں مارے گئے جنگجوئوں کی شناخت فوری طور ظاہر نہیں کی گئی ہے ۔ادھر پولیس نے عوام سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ جائے تصادم پر جانے سے تب تک گریز کیا کریں جب تک اسے پوری طرح سے صاف قرار نہ دیا جائے جمعے کی شام کو کولگام میں مشتبہ جنگجووں نے ایک سرپنچ کو گولی مار کر ہلاک کردیا جبکہ دو روز قبل کھنموہ سری نگر میں بھی پی ڈی پی سے وابستہ ایک سرپنچ کو گھر میں گھس کر فائرنگ کی گئی جس وجہ سے اْس کی موقع پر ہی موت واقع ہوئی تھی۔ادھر آئی جے پی کشمیر وجے کمار نے میڈیا نمائندوں کے سوالوں کا جواب دہتے ہوئے بتایا کہ دہی نمائندے سافٹ ٹارگٹ ہیں کیوں کہ90فیصد دہی نمائندوں کے پاس پی ایس او نہیں ہیں ۔










