دراندازی کو پاکستان کی حمایت حاصل ،ہمارے فوجی اور حکومت صورتحال سے پوری طرح چوکس / امیت شاہ
سرینگر // پاکستان کے زیر قبضہ جموں کشمیر ہندوستان کا ہے اور ہمارا قانونی مقدمہ بھی مضبوط ہے کا دعویٰ کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ بلوچستان میں علیحدگی پسندی اور اپنے ہی ملک میں عسکریت پسندی سے نمٹنے میں ناکام ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دراندازی کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے لیکن ہمارے فوجی اور حکومت صورتحال سے پوری طرح چوکس ہیں اور جو لوگ دراندازی کو آسان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔سی این آئی کے مطابق نئی دہلی میں ایک قومی نیوز چینل کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ پاکستانی زیر قبضہ جموں کشمیر پر ہندوستان کا دعویٰ محض دعویٰ نہیں ہے بلکہ تاریخی دستاویزات اور شواہد کے ذریعے ایک پختہ یقین ہے۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پاکستانی زیر قبضہ جموں کشمیر پر ہندوستان کا موقف بالکل واضح ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارا قانونی مقدمہ بھی مضبوط ہے۔پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بدامنی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان وہاں کے حالات کو سنبھالنے کے قابل نہیں رہا۔پاکستان کو نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی بڑھتی ہوئی بدامنی اور عسکریت پسندی کا سامنا ہے۔شاہ نے کہا کہ پاکستان کو اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔شاہ نے سوالنامے کو بتایا’’بھارت بلوچستان کی تحریک کی حمایت نہیں کر رہا ہے۔ پاکستان کے کچھ صوبے پاکستان کی حکومت کے کام کرنے کے طریقے سے ناخوش ہیں‘‘۔مرکزی زیر انتظام جموں و کشمیر کے اپنے حالیہ دورہ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ ان کی ملاقات خوشگوار رہی اور ترقی اور حکمرانی پر مرکوز رہی۔انہوں نے کہا ’’ ’مرکزی حکومت جموں و کشمیر کی منتخب قیادت کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے،مرکز نے ہمیشہ علاقائی حکومتوں کی بغیر کسی تعصب کے حمایت کی ہے‘‘۔پڑوسی ملک نیپال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں شاہ نے کہا کہ نیپال ایک جمہوریت ہے اور لوگوں کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا حق ہے۔ ان سے حال ہی میں نیپال کو ہندو راشٹر قرار دینے کے مطالبے کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔










