ٹیٹوال شاردہ یاترا مندر میں شاردہ دیوس جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا

تقسیم سے قبل کی قدیم شاردہ پیٹھ یاترا کی یادیں تازہ

سرینگر /پیرزادہ سعید / /تاریخی شاردہ یاترا مندر، ٹیٹوال (ایل او سی کرناہ) میں سالانہ شاردہ دیوس نہایت شاندار اور عقیدت مندانہ انداز میں منایا گیا، جس نے تقسیم سے قبل کی قدیم شاردہ پیٹھ یاترا کی یادوں کو تازہ کر دیا۔کشمیر پریس سروس نمائندہ پیرزادہ سعید کے موصولہ تفصیلات کے مطابق تقریبات کا آغاز ایک شوبھا یاترا سے ہوا جو شاردہ مندر سے وائٹ لائن پل تک نکالی گئی، جس کی قیادت ڈپٹی کمشنر کپوارہ شری کانت بالا صاحب سوسے نے کی۔ اس جلوس میں سینکڑوں عقیدت مند، کشمیری پنڈت، سکھ اور مقامی لوگ شریک ہوئے۔ یہ جلوس اس قدیم یاترا کی علامت تھا جو تقسیم ہند سے قبل شاردہ پیٹھ (پی او کے) تک جایا کرتی تھی۔سیو شاردہ کمیٹی کشمیر کے چیئرمین رویندر پنڈیتا نے اپنے خطاب میں شاردہ تہذیب کے احیاء￿ ، شاردہ لپی کے فروغ اور ٹیٹوال کو بین المذاہب ہم آہنگی و ورثہ سیاحت کے مرکز کے طور پر اجاگر کرنے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اعجاز خان کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے شاردہ مندر اور ساتھ واقع گردوارے کی تعمیر و انتظام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس موقع پر دونوں مقدس مقامات کو برقی قمقموں سے دلکش انداز میں سجایا گیا۔تقریب میں کئی ممتاز شخصیات شریک ہوئیں جن میں بالی ووڈ اداکارہ پریتی سپرو، تیج سپرو، دہلی گردوارہ پربندھک کمیٹی کے ایس چندھوکھ، اے ڈی سی کپوارہ، ایس ڈی ایم کرناہ، تحصیلدار کرناہ، اے سی آر کپوارہ، اے ای کرناہ، بی ڈی او ٹنگڈار-ٹیٹوال اور بھارتی فوج کے اعلیٰ افسران بشمول ڈپٹی کمانڈر 104 شکتی وجے بریگیڈ اور کمانڈنگ آفیسر 06 مہار شامل تھے۔شرکا نے مندر میں پوجا میں حصہ لیا جبکہ یہ تقریب گرو تیغ بہادر جی کی 350ویں شہادت برسی سے بھی منسلک رہی، جس میں بڑی تعداد میں سکھ عقیدت مند شامل ہوئے اور “کثرت میں وحدت” کے پیغام کو مزید تقویت ملی۔