وندے بھارت ایکسپریس، وادی سے میلہ نگری تک ریل کے نئے سفر کی کہانی

وادی کشمیر کی ترقی ، سیاحت اور تیزتر سفر کاذریعہ

سرینگر/وی او آئی//ریاست جموں و کشمیر میں ترقی کا ایک اور سنگ میل طے ہوا ہے۔ سرینگر اور کٹرا کے درمیان تیز رفتار اور جدید وندے بھارت ایکسپریس کے آغاز نے نہ صرف ایک طویل انتظار کو ختم کیا بلکہ وادی کے عوام کو ایک آرام دہ، محفوظ اور باوقار سفری ذریعہ بھی فراہم کیا۔ یہ ریل محض پٹری پر دوڑتی ایک ٹرین نہیں بلکہ امکانات، راحت، ترقی اور روابط کا ایک نیا دروازہ ہے۔وندے بھارت ایکسپریس، جو پہلے ہی بھارت کے کئی بڑے شہروں میں اپنی کامیاب خدمات کے لیے مشہور ہے، اب کشمیر کی وادی میں بھی روز مرہ کا حصہ بن چکی ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق سرینگر سے کٹرا اور کٹرا سے سرینگر کے درمیان یہ ریل سروس پہلے سے موجود زمینی راستے کے مقابلے میں زیادہ تیز، محفوظ اور آرام دہ ہے۔جہاں ماضی میں اس سفر میں 8 سے 10 گھنٹے لگتے تھے، وہیں اب وندے بھارت کے ذریعے یہ فاصلہ چند گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے۔ جدید کوچز، ائیر کنڈیشنڈ ڈبے، وائی فائی، آرام دہ نشستیں، اور معیاری کیٹرنگ نے اس سفر کو نہ صرف سہل بلکہ خوشگوار بھی بنا دیا ہے۔جموں و کشمیر میں سیاحت پہلے ہی ایک اہم اقتصادی ستون رہا ہے۔ اب وندے بھارت ریل سروس نے اس شعبے کو نئی توانائی بخشی ہے۔ کٹرا میں واقع ماتا ویشنو دیوی مندر ہر سال لاکھوں یاتریوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اب ان یاتریوں کے لیے سرینگر، گلمرگ، پہلگام اور سونمرگ جیسے مقامات تک پہنچنا نہایت آسان ہو گیا ہے۔ریل سروس کے آغاز سے ہوٹل مالکان، ٹریول ایجنٹس اور گائیڈ حضرات کو امید ہے کہ وادی میں گھریلو سیاحوں کی آمد میں بڑا اضافہ ہوگا۔ سرینگر کے ایک ہوٹل مالک، وسیم نائیکو کے مطابق، *”وندے بھارت کے آغاز سے ہمیں بکنگ میں واضح بہتری دیکھنے کو ملی ہے، خاص طور پر جموں و دیگر شمالی ہند سے آنے والے سیاحوں کی جانب سے۔کشمیر کی روایتی مصنوعات جیسے قالین، کشمیری شالیں، خشک میوہ جات اور سیب، اب زیادہ تیز رفتاری سے جموں و دیگر منڈیوں تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔ اس تیز رفتار ریل نے تاجروں کو ایک ایسا آپشن فراہم کیا ہے جو وقت اور لاگت دونوں کے لحاظ سے مؤثر ہے۔بارہمولہ کے ایک تاجر، محمد ارشاد کہتے ہیں، *”پہلے ہم ٹرکوں کے ذریعے مال بھیجتے تھے، جو وقت لیتا تھا اور مہنگا بھی پڑتا تھا۔ اب چھوٹے پارسلز اور حساس سامان وندے بھارت سے جلد اور محفوظ طریقے سے جا سکتے ہیں۔اس نئی سروس کو عوام کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ یہ ریل سروس ترقی کی علامت ہے۔ ایک طالبعلم، سعدیہ جان، جو جموں میں تعلیم حاصل کرتی ہیں، کہتی ہیں۔یہ ریل ہمارے لیے ایک نعمت ہے، خاص کر لڑکیوں کے لیے جو محفوظ، صاف اور وقت کی پابند سفری سہولت کی تلاش میں رہتی ہیں۔یہ ریل سروس نہ صرف فاصلوں کو مٹا رہی ہے بلکہ دلوں کو بھی قریب لا رہی ہے۔ جموں خطہ اور وادی کشمیر کے درمیان ریل رابطے سے دونوں خطوں کے عوام کو ایک دوسرے سے براہ راست ملنے، سمجھنے اور ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا۔اگرچہ یہ ریل سروس ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن کچھ چیلنجز بھی درپیش ہیں جیسے برفباری کے دنوں میں روانگی کو یقینی بنانا، سیکورٹی معاملات اور وقت پر چلنے کی اہلیت برقرار رکھنا۔ تاہم، حکام پر امید ہیں کہ آئندہ دنوں میں مزید بہتری آئے گی اور وندے بھارت سروس وادی کے ہر شہری کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے گی۔وندے بھارت ایکسپریس صرف ایک ریل نہیں، بلکہ کشمیر کو بھارت کی مرکزی ریل پٹی سے جوڑنے والا خواب ہے — ایک ایسا خواب جو اب حقیقت بن چکا ہے۔ یہ سروس روزگار، رابطے، تجارت، سیاحت اور باہمی اعتماد کے نئے راستے کھول رہی ہے۔ اور شاید سب سے اہم بات، یہ کشمیری نوجوانوں، طلبہ، تاجروں اور عام شہریوں کو احساس دلا رہی ہے کہ ترقی کی دوڑ میں وہ تنہا نہیں۔