سکاسٹ کشمیر کے چھٹے کانووکیشن سے خطاب اور زراعت کو جموںوکشمیر کی شناخت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا
سری نگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر اِقتصادی، سماجی اور سیاسی سطح پر ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ خدمت، اِختراع اور قیادت کے ذریعے اس تبدیلی میں فعال حصہ دار بنیں۔وزیر اعلیٰ آج شیرکشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ایس کے یو اے ایس ٹی) کشمیر کے چھٹے کانووکیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں مرکزی وزیر زراعت و بہبودِ کساناں، دیہی ترقی و پنچایتی راج شیوراج سنگھ چوہان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اِس موقعہ پرچانسلرسکاسٹ کشمیر اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا اور وزیر زراعت و دیہی ترقی جاوید احمد ڈار بھی موجود تھے۔کانووکیشن میںنائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزرأ سکینہ اِیتو اور جاوید رانا، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، کئی اَرکان قانون سا ز اسمبلی، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر احمد گنائی، فیکلٹی، طلبأ ، والدین اور دیگر معززین نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ اور یونیورسٹی کے پرو چانسلر عمر عبداللہ نے فارغ التحصیل طلبأ سے خطاب کرتے ہوئے کہا،’’جموں و کشمیر کی نئی داستان نعروں سے نہیں، خدمت سے لکھیں۔ حق جتانے سے نہیں، قابلیت سے آگے بڑھیں۔ جب آپ ترقی کریں تو دوسروں کو بھی ساتھ لے کر چلیں۔ چاہے آپ بنگلورو جائیں یا برلن، دل میں کشمیر کو بسائے رکھیں۔‘‘اُنہوں نے طلبأ کو یاد دِلایا کہ وہ صرف ڈِگریاں نہیں، بلکہ اُمید، اِستقامت اور ذِمہ داری لے کر دُنیا میں قدم رکھ رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا،’’اگر آپ کے پاس کوئی آئیڈیا ہے، ہم فنڈ فراہم کریں گے۔ اگر منصوبہ ہے، ہم شراکت داری کریں گے۔ اگر ہمت ہے، حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ دنیا کو آپ کی علم ہی نہیںبلکہ ہمدردی، حوصلے اور کردار کی ضرورت ہے۔‘‘اُنہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ صرف نوکری کی تلاش پر نہ رکیں بلکہ نوکریاں پیدا کریں بالخصوص زراعت اور اِس سے منسلک شعبوں میں۔اُنہوں نے کہا،’’ایگرو سٹارٹ اَپس بنائیں، کسان گروپوں سے مشورہ کریں، نجی توسیعی خدمات فراہم کریں۔ آپ کو سائنس اور سماج کے درمیان پُل بنانے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اپنی مٹی سے جڑے رہیں۔‘‘وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے زراعت میں اختراعات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پوچھا،’’کیا آپ چھوٹے کسانوں کو آمدنی دوگناکر سکتے ہیں؟ کیا آپ موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت کے حل تیار کر سکتے ہیں؟ کیا آپ دیہی علاقوں میں روزگار پیدا کرنے والے زرعی اِدارے قائم کر سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو یاد رکھیں، آپ تنہا نہیں ہوں گے، حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘اُنہوں نے ایک بیج کی تمثیل دیتے ہوئے کہا،’’بیج اندھیرے اور مزاحمت کا سامنا کرتا ہے لیکن وہ ایک ایسا درخت بن جاتا ہے جو سایہ، پھل اور پناہ دیتا ہے۔ خود کو صحیح جگہ پر لگائیں، خوابوں کو محنت سے سینچیں، دُنیا آپ کی نشوونما سے فائدہ اٹھائے گی۔‘‘عمر عبداللہ نے سکاسٹ کشمیر کو معتدل آب و ہوا کی باغبانی، پہاڑی زراعت، نامیاتی کھیتی اور مویشی تحقیق میں اِنقلابی خدمات پر سراہا۔اُنہوں نے کہا،’’اِس یونیورسٹی نے نہ صرف سکالروں بلکہ فیلڈ لیول کے اِختراع کار بھی پیدا کئے ہیں جو کسانوں کو درپیش حقیقی مسائل کو حل کر رہے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے زراعت کو جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور ثقافتی روح قرار دیا۔اُنہوں نے کہا،’’ہمارے 70 فیصد سے زائد لوگ زراعت سے براہِ راست یا بالواسطہ جُڑے ہوئے ہیں۔ یہ صرف پیشہ نہیں،یہ ہمارے طرزِ زِندگی کو متعین کرتا ہے۔‘‘

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کا زرعی ویژن شیخ محمد عبداللہ کی وراثت سے تحریک حاصل کرتا ہے جو مساوات، خود انحصاری اور نچلی سطح پربا اختیاربنانے پر مبنی ہے۔اُنہوںنے اس بات پر زور دیا کہ زراعت کو جدید چیلنجوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’گزشتہ کل کی زراعت آنے والے کل کی اُمنگوں کو پورا نہیں کر سکتی۔ موسمیاتی تبدیلی، زمین کا انحطاط اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال جدید، تکنیکی حل کا تقاضا کرتے ہیں۔‘‘عمر عبداللہ نے اعلان کیا کہ حکومت نے 5,000کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے ساتھ ایک جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈِی پی) شروع کیا ہے جو جموںوکشمیر کی تاریخ کا ایک بڑا اصلاحاتی اقدام ہے۔اُنہوں نے کہا،’’یہ پروگرام سائنس، مالی شمولیت اور گورننس کو مربوط کر کے زراعت کو ایک اعلیٰ قدر، جدید اور دیرپا شعبہ بنانے کے لئے ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام( ایچ اے ڈِی پی) کے تحت 29 اِنقلابی منصوبے عملائے جا رہے ہیں جن میںاعلیٰ معیار کے سیب و اخروٹ کے باغات،جدید بھیڑ و پشوپالن کے کلسٹرز،زعفران کی دوبارہ کاشت،ڈیری کی جدید کاری،دیہی روزگار کے لئے ایگری بزنس اور ویلیو چین ترقی شامل ہیں۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاست کا فوکس درست طریقہ زراعت، فصل کے بعد کے انتظام اور ڈیٹا کے ذریعے پیداوار اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے پر ہے اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تحقیق اور کاشتکاروں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنیں۔اُنہوں نے اپنے خطاب سے پہلے حلف برداری کی قیادت کی جس میں فارغ التحصیل طلبأ نے سچائی، فرض شناسی، ثابت قدمی اور ترقی کو برقرار رکھنے کا عہد کیا۔اُنہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اس برس گولڈ میڈل زیادہ تر طالبات کو دئیے گئے۔وزیر اعلیٰ نے اس سرزمین کی بیٹیو، آپ اپنی ذہانت سے ایک سنہری مستقبل رقم کر رہی ہو۔ دعا ہے کہ روشن رہو، دوسروں کے لئے مشعل راہ بنو۔‘‘ اُنہوں نے طالب علموں اور ان کے کنبوں کو مُبارک باد دی۔ وزیر اعلیٰ نے تمام فارغ التحصیل طلباء، ایوارڈ حاصل کرنے والوں اور فیکلٹی کو مُبارک باد دیتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جموں و کشمیر کے نوجوان اس خطے کو سائنسی، دیرپا اور باوقار مستقبل کی طرف لے جائیں گے۔










