جے کے اِنٹرنیشنل بائر۔سیلر میٹ2025سے خطاب
سری نگر// وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت بائر۔سیلر میٹنگوں کے ذریعے کشمیری ہنرمندوں اور عالمی منڈی کے درمیان تاریخی تعلق کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ تخلیق کاروں اور صارفین کے درمیان براہ راست رشتہ مضبوط ہو۔وزیراعلیٰ نے اِن باتوں کاا ِظہار آج جے کے اِنٹرنیشنل بائر۔سیلر میٹ 2025 سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو کہ ایس کے آئی سی سی میں منعقد ہوا۔ اِس میٹ کا اِنعقاد جموں و کشمیر ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن (جے کے ٹی پی او) نے وول اینڈ وولنز ایکسپورٹ پروموشن کونسل (ڈبلیو ڈبلیو اِی پی سی) کے اِشتراک سے کیا تھاجسے وزارت مائیکرو،سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کی ریمپ(آر اے ایم پی)سکیم کے تحت معاونت حاصل ہے۔تقریب سے نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھری نے بھی خطاب کیا جو اِس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔اِس موقعہ پر مشیر وزیراعلیٰ ناصر اسلم وانی، کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت وکرم جیت سنگھ، چیئرمین ڈبلیو ڈبلیو اِی پی سی آر سی کھنہ، منیجنگ ڈائریکٹرجے کے ٹی پی او سدھرشن کمار، صدر کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ اِنڈسٹری جاوید احمد ٹینگا کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی خریدار، فروخت کنندگان اور دیگر شراکت دار موجود تھے۔اس میٹ میںزائد اَز 100 فروخت کنندگان اور 45 سے زیادہ قومی و بین الاقوامی خریداروں نے شرکت کی، جو کہ سات ممالک اور ہندوستان کی سات ریاستوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ اِس موقعہ پرزائد اَز 100 اعلیٰ معیار کی اون اور اونی مصنوعات کی نمائش کی گئی۔وزیراعلیٰ نے میٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا،’’ایک زمانہ تھا جب ایسی بائر۔سیلر میٹس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی تھی۔ دُنیا بھر سے سیاح خود کشمیر آتے تھے اور خریدار بن جاتے تھے۔ آج ہم ان پرانے رِشتوں کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیںتاکہ تخلیق کار اور خریدار دوبارہ جڑ سکیں۔‘‘اُنہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک نمائشی پروگرام نہیں ہے۔اُنہوں نے کہا،’’اِس سکیم کے تحت، ہم چھ ریگولر بائر۔سیلر میٹنگوں اور چھ ریورس میٹنگیں منعقد کرنے کے لئے پُرعزم ہیں۔ یہ سلسلہ کاریگروں اور کاروباری اَفراد کو دیرپا منڈی تک رسائی فراہم کرے گا۔‘‘وزیراعلیٰ نے شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے محکمہ صنعت کو ہدایت دی کہ وہ اُن کاریگروں کو ترجیح دیں جنہیں ابھی تک ایسے پلیٹ فارموں پر شرکت کا موقع نہیں ملابالخصوص وہ جن کے مالی وسائل محدود ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’ان کے پاس ہنر بھی ہے اور مصنوعات بھی، لیکن مواقع نہیں۔ اگر ہم انہیں شامل کریں تو مارکیٹنگ اور رَسائی کے کئی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ ایسے پروگراموں کا اصل فائدہ براہِ راست کاریگروں تک پہنچنا چاہیے۔وزیر اعلیٰ نے کہا،’’یہ یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے کہ کاریگروں کی محنت کا صلہ کسی اور کو نہ ملے۔ اصل تخلیق کار ہی پہچان اور انعام کا حق دار ہونا چاہیے۔‘‘ اُنہوں نے کاریگروں کو جدیدیت اَپنانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا،’’صرف ڈیزائن یا مصنوعات میں ہی نہیں بلکہ عمل اور انفراسٹرکچر میں بھی جدت لانا ضروری ہے۔ صارفین کا ذوق بدل رہا ہے، اگر ہم جامد رہے تو پیچھے رہ جائیں گے۔ حکومت ہر ممکن مدد دینے کو تیار ہے،چاہے وہ را میٹریل بینک ہوں، کلر بینک ہوں یا ڈیزائن انوویشن سینٹرز ہوں تاکہ ہمارے کاریگروں کو بین الاقوامی منڈیوں میں مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے میں مدد ملے۔‘‘اُنہوں نے خریداروں اور معززین کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا،’’آپ کی موجودگی حکومت، ہنرمندوں، کاروباری اَفراد اور تمام شرکأکے لئے حوصلہ اَفزا ہے۔ اس سے ہمیں اعتماد ملتا ہے اور اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ہم نے جو سمت اختیار کی ہے وہ درست ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے ماضی کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اگر چہ چند برس پلک جھپکنے میں گزر گئے، لیکن ہمارے بہت سے مسائل حل طلب ہیں۔ ہمارے کاریگروں کے ہاتھوں میں جادو ہے، میں تمام لوگوںسے گزارش کرتا ہوں کہ وہ نمائش کے سٹالوں پر ضرور جاکر مشاہدہ کریں۔اُنہوں نے کہاکہ بہت سی نمائشیں برسوں کی سرشار دستکاری کا نتیجہ ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’ایک نمونہ میں نے آج دیکھا جو تین برس میں مکمل ہوا۔ کچھ سٹال ہماری وراثت کی جھلک دکھا رہے ہیں، تو کچھ جدید انداز میں ہمارے روایتی فن کو پیش کر رہے ہیں۔ یہی پرانے اور نئے کا امتزاج ضروری ہے۔‘‘وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے اِختتامی خطاب میں آنے والے خریداروں کو کشمیر کی خوبصورتی اور ثقافت دریافت کرنے کی دعوت دی۔ اُنہوں نے کہا ،’’سری نگر اور دیگر علاقوں کا سفر کریں۔ اپنے ساتھ صرف عالمی معیار کی مصنوعات ہی نہیں بلکہ خوبصورت یادیں بھی لے جائیں۔‘‘اِس سے قبل وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھری نے فروخت کنندگان کے سٹالوں کا معائینہ کیا اور خریداروں اور فروخت کنندگان سے بات چیت کی اور اُن کی کوششو ں کو سراہا۔










