متاثرہ لوگوں سے ملاقات کی،فوری اِمداد، بحالی اور حکومتی تعاون کی یقین دہانی کی
رام بن/اُودھمپور//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے رام بن اور اُودھمپور اَضلاع کا تفصیلی دورہ کیا تاکہ حالیہ بادل پھٹنے، اَچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرآنے سے ہونے والی شدید تباہ کاریوں کا جائزہ لے سکیں جس نے عام زندگی کو بُری طرح سے متاثر کیا ہے اور جموں۔سری نگر قومی شاہراہ (این ایچ۔44) کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔اُنہوں نے رام بن کے رامبن کے ماروگے میں نے این ایچ۔44 کے بُری طرح تباہ شدہ حصے کا معائینہ کیا اور نیشنل ہائی ویز اَتھارٹی آف اَنڈیا (این ایچ اے آئی)، بیکن اور دیگر عمل آوری ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ اِس اہم شاہراہ کو جنگی بنیادوں پر بحال کیا جائے۔وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ وادیٔ کشمیر میں ٹریفک کی روانی اور اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا فوری ترجیح ہونی چاہیے۔اُنہوں نے تباہ کن بادل پھٹنے سے متاثر ہوئے راج گڈھ میں ریلیف اور بازآبادکاری کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے متاثرہ کنبوں کو یقین دِلایا کہ سٹیٹ ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ ( ایس ڈِی آر ایف)کے تحت مناسب اِمداد فراہم کی جائے گی۔

عمر عبداللہ نے اَفسروں کو ہدایت دی کہ مشکلات میں گھرے اور مصیبت زدہ لوگوں کو بروقت مدد فراہم کی جائے جبکہ ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن محمد اِلیاس خان نے وزیر اعلیٰ کوجانکاری دی کہ ڈِسٹرکٹ ریڈکراس فنڈ سے فوری مالی اِمداد پہلے ہی تقسیم کی جاچکی ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اَپنے دورے کے دوران اَضلاع میں اشیائے ضروریہ، طبی سہولیات اور اہم خدمات کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا۔ اُنہوں نے اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ غذائی اجناس، صاف پینے کے پانی، بجلی اور طبی نگہداشت کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جائے۔وزیر اعلیٰ کے ہمراہ رام بن میں رُکن قانون ساز اسمبلی رام بن اَرجن سنگھ راجو ، ایس ایس پی رام بن ارون گپتا ، اے ڈِی سی ورنجیت سنگھ چاڈک اور این ایچ اے آئی ،بیکن و ضلع اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران بھی تھے ۔اُنہوں نے رام بن کے لوگوں کو یقین دِلایا کہ حکومت بحالی کے کاموں میں تیزی لانے اور متاثرہ کنبوں کو مکمل تعاون فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔بعدمیں وزیر اعلیٰ نے اُودھمپور ضلع کے بالی نالہ اور تھارد میں این ایچ۔44 کے متاثرہ حصوں کا معائینہ کیا۔ اُنہوں نے جاری بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا اور عمل آوری ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ ملبہ ہٹانے اورہائی وے کی مرمت کے لئے اِضافی اَفرادی قوت اور مشینری تعینات کی جائے۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے زور دے کر کہا کہ سڑک رابطے کی بحالی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے اور ضلعی اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ شاہراہ کو جلد از جلد کھولنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں۔وزیر اعلیٰ جن کے ہمراہ رُکن قانون ساز اسمبلی چنانی بلونت سنگھ منکوٹیہ، ضلع ترقیاتی کمشنر اُودھمپور سلونی رائے اور ضلعی اَنتظامیہ کے سینئر افسران تھے، نے چوبیسوں گھنٹے جاری صفائی آپریشن کا تفصیلی جائزہ لیا۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ کم از کم شاہراہ کی ایک ٹیوب فوری طور پر کھولی جائے تاکہ وادیٔ کشمیر کو اشیائے ضروری سامان کی آواجاہی اور روانی ممکن ہو اور عوامی مشکلات کم ہوں۔وزیرا علیٰ نے بالی نالہ اور تھارد میں مقامی باشندوں سے بات چیت کے دوران اُن کے مسائل سنے اور انہیں حکومت کے مکمل تعاون کا یقین دِلایا۔ اُنہوں نے اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ متاثرہ کنبوں کو فوراً راشن، پینے کا صاف پانی، بجلی کی بحالی، عارضی پناہ گاہیں اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ پہلی ترجیح متاثرہ کنبوں کو غیر محفوظ مقامات سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے، اِس کے بعد بحالی کا جامع پروگرام شروع کیا جائے گا جب سڑک بحال ہو جائے گی۔اُنہوں نے شاہراہ کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ این ایچ۔44 کو رام بن اوراُودھمپور اَضلاع میں بے مثال نقصان پہنچا ہے جس سے ٹریفک اور رسدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے یقین دِلایا کہ بحالی کے کاموں میں تیزی لانے اور عوامی مشکلات کوکم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔










