اضافی سپلائی صارفین کو موسم سرما کے دوران لوڈ شیڈنگ کے مسائل سے ضروری راحت فراہم کریگی
سرینگر // موسم سرما کے دوران بجلی کی بڑھتی طلب کے بیچ جموں و کشمیر کو آنے والے دنوں میں اضافی 350 میگاواٹ بجلی ملنے والی ہے اور توقع ہے کہ اضافی سپلائی موسم سرما کے دوران جاری لوڈ شیڈنگ کے مسائل سے انتہائی ضروری راحت فراہم کرے گی۔سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر میں سرما کے موسم کے دوران بجلی سپلائی کی بڑھتی طلب کے بیچ کمی کو پورا کرنے کیلئے ایک اہم اقدام میں جموں کشمیر آنے والے دنوں میں اضافی 350 میگاواٹ بجلی ملنے والی ہے ۔ مرکزی حکومت کی طرف سے حالیہ 200 میگاواٹ کے مختص ہونے کے بعد ایک سینئر عہدیدار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سپلائی میں اس اضافے کا مقصد سردیوں کے ماہ میں درپیش بجلی کی کمی کو کم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وادی کشمیر کو 1,550 میگاواٹ بجلی ملتی ہے، جبکہ سردیوں کی سب سے زیادہ طلب 1,800 میگاواٹ اور 1,850 میگاواٹ کے درمیان ہوتی ہے۔ بقیہ 350 میگاواٹ کی درخواست پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہے اور حکام کو امید ہے کہ جلد ہی منظوری مل جائے گی۔ توقع ہے کہ اضافی سپلائی سرد ماہ کے دوران جاری لوڈ شیڈنگ کے مسائل سے انتہائی ضروری ریلیف فراہم کرے گی۔خیال رہے کہ پورے جموں و کشمیر کے رہائشی، بشمول میٹر والے اور غیر میٹر والے دونوں علاقوں میں بجلی کی طویل کٹوتی کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے وسیع پیمانے پر عدم اطمینان ہے۔ صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ نے زیادہ مانگ کے اوقات میں بجلی کی زیادہ منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کیلئے لوڈ کم کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے کمشنر سیکرٹری راجیش پرساد نے صورتحال کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا’’وادی کو بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کیلئے فوری طور پر 350 میگاواٹ کی ضرورت ہے۔ ایک بار جب اضافی بجلی کی فراہمی کی منظوری دی جائے گی تو صارفین کیلئے اہم ریلیف ہوگا‘‘۔کے پی ڈی سی ایل کے ایک اہلکار نے یقین دلایا کہ بجلی کٹویی مسئلے کو حل کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں اور کہا ’ہمیں صورت حال پر گہری تشویش ہے اور ہمیں یقین ہے کہ دو سے تین دن میں ریلیف فراہم کر دیا جائے گا‘‘۔دریں اثنا، صارفین نے بجلی کی غیر شیڈول بندش اور بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں پر بڑھتی ہوئی مایوسی کا اظہار کیا ہے، بہت سے لوگوں نے رپورٹ کیا ہے کہ سروس میں کوئی بہتری نہ ہونے کے باوجود ان کی قیمتیں دگنی ہو گئی ہیں۔










