سالانہ 51,000 ٹن سے زیادہ پلاسٹک کا فضلہ پیدا ہوتا
سرینگر/وی او آئی//وادی میںپلاسٹک کے استعمال، آبی ذخائر پر ناجائز قبضے،جنگلوں کے بے تحاشہ کٹاواور شہری علاقوں میں اندھادھند تعمیراتی عمل کو ماحول کے بگاڑ کی وجہ قرار دیتے ہوئے ماہرین نے ماحولیات مخالف سرگرمیوں پر روک لگانے کی وکالت کی۔وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر میں سالانہ 51,000 ٹن سے زیادہ پلاسٹک کا فضلہ پیدا ہوتا ہے، لیکن ماخذ پر پلاسٹک کو جمع کرنے اور الگ کرنے کے سائنسی عمل کی عدم موجودگی میں، غیر بایو ڈیگریڈیبل اشیاءخاص طور پر پلاسٹک کی بوتلیں اور پولی تھین کو آبی ذخائر ،خالی زمین اور جنگلاتی علاقوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں کشمیرکے آبی ذخائر میں موجود مائیکرو پلاسٹک(پلاسٹک کے ذرات)، ماحولیاتی نظام اور انسانوں کے لیے یکساں خطرناک ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ جموں اور کشمیر میں دریاو ¿ں کے ساتھ غیر الگ الگ ٹھوس فضلہ کو غیر سائنسی طور پر ٹھکانے لگانے سے شمال مغربی ہمالیہ میں مائکرو پلاسٹک کی آلودگی بڑھ رہی ہے۔ماہر ماحولیات و آچاریہ سری چندر کالج آف میڈیکل سائنسز میں تعینات ڈاکٹر تصدق حسین ایتو کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں پلاسٹک کے تھیلوں کے وسیع استعمال کی ایک بڑی وجہ ممکنہ طور پر بڑھتا ہوا خوردہ سیکٹر (سپر مارکیٹس، کھانے ،پینے کی اشیاء فروخت کرنی والی دکانیں ) ہے۔ان کا کہنا تھا کہ غیر مو ¿ثر فضلہ کے سلسلے کا ایک بڑا جزو پلاسٹک کا فضلہ، بشمول پلاسٹک لفافے، شیشے ، چپس کے پیکٹ اور میگزین کور پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر تصدق کا ماننا ہے کہ جموں کشمیر میں فضلہ کو ٹھکانے لگانے والا ناقص نظام کی وجہ سے پلاسٹک کے کچرے کو ٹھکانے لگانے کا مسئلہ سنگین ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صارفین اپنی سہولت کی وجہ سے پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جبکہ پورا معاشرہ ان کو ٹھکانے لگانے کے اجتماعی اخراجات برداشت کرتا ہے۔ ڈاکٹر اعجاز مقبول کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کے تھیلے، بوتلیں اور دیگر اشیاء جھیلوں، اور ندی نالوں میں ڈالنے سے نہ صرف پانی کے ان ذرائع کا دم گھٹتا ہے بلکہ آبی حیات کو بھی نقصان پہنچتا ہے جو پلاسٹک کو خوراک سمجھتی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ پلاسٹک مٹی کو آلودہ کرتی ہے اوریہ اس کی زرخیزی اور اس میں اگنے والے پودوں کی صحت کو متاثر کرتا ہے جبکہ جنگلی حیات اکثر پلاسٹک کا ملبہ کھاتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوتے ہیں اور انکی موت بھی واقع ہوتی ہے۔انکا کہنا تھا کہ ایک نئی تحقیق نے جموں اور کشمیر میں دریائے جہلم میں مائیکرو پلاسٹک کے آلودگیوں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے، انہوں نے کہا کہ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ کہ دریائے جہلم کے کنارے میونسپل سالڈ ویسٹ کو ٹھکانے لگانے کی غلط جگہیں ان مائیکرو پلاسٹکس کا ممکنہ ذریعہ ہیں۔










