وادی کشمیر اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں

وادی کشمیر اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں

بجلی کی مسلسل آنکھ مچولی نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا

سرینگر/وی او آئی//وادی کشمیر اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، تاہم بجلی کی مسلسل آنکھ مچولی نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق سرینگر سمیت بیشتر شہری و دیہی علاقوں میں غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی معمول بن چکی ہے، جس کے باعث گھریلو زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ نہ دن کو سکون ہے اور نہ رات کو چین، کیونکہ بجلی کی عدم دستیابی نے پنکھے اور کولر بیکار کر دیے ہیں جبکہ پینے کے پانی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ لالچوک کے ایک رہائشی غلام نبی میر نے شکایت کی کہ رات بھر بجلی نہیں آتی، بچوں کو گرمی سے نیند نہیں آتی اور بزرگ افراد کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔ سرینگر کے کئی علاقوں بشمول نٹی پورہ، بٹمالو، حول اور نشاط سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بجلی کئی کئی گھنٹوں تک بند رہتی ہے اور صارفین کی شکایات کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اگرچہ کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (KPDCL) نے بجلی کی کٹوتی کا باقاعدہ شیڈول جاری کیا ہے تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ محکمہ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور پیداوار محدود ہونے کی وجہ سے لوڈ مینجمنٹ ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں لائن لاسز زیادہ ہیں وہاں ناگزیر طور پر کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اس دوران ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا دیرپا حل متبادل توانائی ذرائع، بالخصوص شمسی توانائی، کی طرف منتقلی میں ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے حال ہی میں شروع کی گئی “پی ایم سوریا گھر – مفت بجلی یوجنا” اگر سنجیدگی سے نافذ کی جائے تو عام گھروں میں کم از کم جزوی ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ادھر شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ محکمہ بجلی غیر اعلانیہ کٹوتیوں کو فوری طور پر بند کرے اور لوڈ مینجمنٹ کا مؤثر اور منصفانہ نظام رائج کیا جائے، تاکہ گرمی کی اس شدید لہر میں عوام مزید اذیت سے دوچار نہ ہوں۔