کسانوں نے سروسوں کے بجائے دیگر فصلوں کو اپنایا
سرینگر//وادی کشمیر میں ایک وقت پر زرد انقلاب کے نام سے جانی جاتی تھی جہاں پر ٹنل سے اس پار آتے ہی سرحدی ضلع کپوارہ تک دائیں بائیں سروسوں کے لہلاتے کھیت دکھائی دے رہے تھے تاہم گزشتہ دس برسوں میں سروسوں کی کاشت میں کافی کمی واقع ہوئی ہے اور کاشتکار سروسوں کے بدلے میوہ جات اور دیگر فصلوں کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں ماہ نمبر سے ہی کھیتوں میں سرسوں کے بیچ بوئے جاتے تھے اور ماہ مئی میں یہ فصل تیار ہوجاتی تھی ۔ سروس سے تیل حاصل ہوتا ہے جو کہ کھانے میں صحت مند اور بغیر کسی ملاوٹ کے لوگوں تک پہنچ جاتا تھا اس کے ساتھ ساتھ سروس کا تیل مقامی سطح پر کافی مقدار میں تیار کیا جاتا تھا تاہم گزشتہ دس برسوں سے اس کی کاشت میں کمی دیکھے کو مل رہے ۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق ٹنل سے اس پر آتے ہی دائیں اور بائیں سرسوں کے کھیت لہلہاتے دیکھے جاسکتے تھے اور یہ قاضی گنڈ سے برابر سرحدی اضلاع کپوارہ اور اوڑی تک دونوں طرف ہوا کرتے تھے جو ایک بہترین منظر پیش کرتا تھا تاہم اب اس میں کافی کمی ہوئی ہے کیوں کہ زرعی اراضی پر میوہ کے پودے لگائے جارہے ہیں جبکہ لوگوںنے زرعی اراضی پر تعمیراتی سرگرمیاں بھی جاری ہے جس کی وجہ سے سروسوں کی فصل اب کم ہورہی ہے ۔ اس ضمن میں چیف ایگریکلچر آفیسر اننت ناگ اعجاز احمد بٹ نے بتایا کہ سرسوں کی کاشتکاری میں کافی فائدہ ہے ایک تو اس پر خرچہ کم آتا ہے ایک کلو سرسو ایک سے دو کنال اراضی پر بوئے جاتے ہیں اور ماہ نومبر سے مئی تک یہ فصل تیار ہوجاتی ہے اور اس کی کٹائی میں بھی زیادہ پیسے خرچ نہیں ہوتے جبکہ تیل تیار ہونے پر کاشتکاروں کو کافی فائدہ ملتا تھا اس کے ساتھ ساتھ اس کے دیگر چیزیںبھی استعمال میں لائی جاتی تھیں اور اس کا گھاس پوس میوشیوں کے چارہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دس بیس برسوں سے اس کی کاشتکاری میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ انہوںنے لوگوں سے کہا کہ وہ سرسوں کی کاشت کی طرف توجہ دیں کیوںکہ یہ کافی سود مند کاشتکاری ہے ۔










