کبارڈ کوتصرف میں لانے کیلئے کوئی فیکٹر نہ ہونے سے لوہے کی قیمتیں بھی آسمان پر
سرینگر//وادی کشمیر میں تعمیراتی سرگرمیوں کیلئے باہر سے روزانہ ہزاروں ٹن لوہاباہر سے منگایا جاتا ہے اور یہ بہت بڑ ا کاروبار ہے جبکہ اسی طرح وادی سے روزانہ ہزاروٹن کبارڈ باہر کی ریاستوں کو جاتا ہے ۔ اس طرح سے یہاں کبارڈ باہر بھیجنے میں بھی خرچہ آتا ہے اور وہاں سے لوہا درآمد کرنے میں بھی خرچہ آتا ہے ۔ تاہم اگر وادی کشمیر میں لوہے کی سلاخیں اور دیگر چیزیں بنانے کی فیکٹریاں ہوتیں تو سینکڑوں ٹن کبارڈ جو باہر جاتا ہے اس کویہاں پر تصرف میں لاکر کاروبار کو بڑھایا جاسکتا تھا اس سے لوہے کی قیمت بھی کم ہوتی اور یہاں پر فیکٹریوں میں مقامی نوجوانوں کو روزگار بھی ملتا ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں کبارڈ کا کاروبار بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے اور روزانہ درجنوں گاڑیاں کبارڈ لیکر جموں ، ہریانہ اور دیگر شہروںکوجاتی ہیں جہاں پر ان کو ریسائیکل کرکے پھر واپس کئی شکلوں میں واپس وادی آتا ہے ۔ یہاں سے جانے والی کبارڈ کی گاڑیوں کیلئے ہزاروں روپے کرایہ اداکرنا پڑتا ہے لیکن اگر اس کو تصرف میں لانے اور ریسائیکل کرنے کیلئے کوئی انتظام ہوتا تو یہ لاگ بچ جاتی جس سے کاروبار بھی بڑھ جاتا ۔ اسی طرح وادی کشمیر میں جاری سرکاری اور نجی سطح پر تعمیراتی سرگرمیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ان تعمیراتی سرگرموں میں لوہا بڑے پیمانے پر استعمال کیاجاتا ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے باہر سے لوہامنگوانا پڑتا ہے ۔وی اوآئی نمائندے امان ملک کے مطابق روزانہ لوہے سے بھری 30گاڑیاں بیرونی ریاستوں سے وادی پہنچائی جاتی ہے ۔ ایک گاڑی میں قریب 25سے 30ٹن لوہا ہوتا ہے ۔ لوہا کی درآمد کا کاروباروبار ماہانہ کروڑوںروپے کاہوتا ہے تاہم اگر وادی کشمیر میں اس طرح کی کوئی انڈسٹری، فیکٹری یاکارخانہ ہوتا جہاںپر کبارڈ کو تصرف میں لاکر اس کو لوہا بنایا جاتا تو جو باہر سے لوہا منگایا جاتا ہے اس کی ضرورت نہیں پڑتی اور یقینی طور پر مقامی سطح پر تیار ہونے والے مواد کی قیمت بھی کم ہوتی ۔ دوسرا اس سے مقامی لوگوں کو روزگار بھی ملتا ۔ اس ضمن میں کئی تاجروں نے بتایا کہ سرکار کو اس سلسلے میں سوچنا چاہئے اور لوہا تیار کرنے کیلئے کوئی فیکٹری لگانی چاہئے جس سے کاروبار بھی بڑھے گا اور روزگار کے مزید وسائل بھی پیدا ہوں گے ۔










