فاروق عبداللہ نے صدر ہند کو مکتوب روانہ کیا، حیدر پورہ قتل کی وقتی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا

نوجوانوں میں مایوسی دور کرنے کیلئےٹھوس اقدامات کی ضرورت: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

سرینگر//صدرِ جموںوکشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموںو کشمیر میں جاری بے چینی اور غیر یقینی صورتحال سے جموں وکشمیر کی معیشت تباہ و بردار ہوکر رہ گئی ہے اور اس صورتحال کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑا ہے۔انہوں نے کہا جموںوکشمیر میں غربت اور افلاس میں تشویشناک حد تک اضافہ،نوجوان پریشان نظرآ رہے ہیں ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق فاروق عبد اللہ نے کہالوگ نہ صرف ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں جبکہ اقتصادی اور معیشی بدحالی سے آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ غربت اور افلاس کا شکار ہوکر رہ گیا ہے۔ بانڈی پورہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ جموں وکشمیر میں غربت اور افلاس اس قدر سرایت کر گیا ہے کہ لوگ کیلئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کر پانا بھی محال ہوتا جارہا ہے جبکہ بہت سارے بیماروں کیلئے ادویات کا بندوبست کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔قتصادی بحالی کے منفی اثرات بچوں کی تعلیم پر بھی پڑ ا ہے کیونکہ بہت سارے والدین بچوں کی سکول فیس ادا سے بھی قاصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دلی کے غلط فیصلوں کا خمیازہ زمینی سطح پر غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ صاحب ثروت افراد اپنے غریب اور مفلس بھائیوں کی مدد و اعانت میں مزید اضافہ کریں۔انہوں نے کہاکہ صبر، برداشت اور وسعت قلبی سے ہی ہم موجودہ چیلنجوں سے نجات پاسکتے ہیں اور یہی تین چیزیں میں منزل مقصود تک پہنچاسکتی ہے۔ سماجی برائیوں اور بدعات کے علاوہ نئی نسل میں منشیات اور دیگر برے کاموں کے بڑھتے ہوئے رجحان پر زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے کہا کہ نئی نسل کو غلط راستے پر جانے سے روکنے کیلئے علماء￿ کرام، ایمہ مسجد ، اساتذہ خصوصاً والدین کا اہم رول بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صحیح پرورش ،تعلیم و تربیت اور خوفِ خدا کا درس ہی نوجوان نسل کو برے کاموں سے باز رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریکارڈ توڑ بے روزگاری سے نوجوان مایوسی کے شکار ہوتے جارہے ہیں ، جو ایک انتہائی تشویشناک امر ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومتی سطح پر زبانی جمع خرچ اور کاغذی گھوڑے دوڑانے کے بجائے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے۔