معاملہ عدالت میں ہے وقف بورڈکے ساتھ معاملے کوپرُامن طریقے سے حل کرنے کے متمنی /دوکاندار
سرینگر//وقف بورڈکی جانب سے آفتاب مارکیٹ میں سات کے قریب دوکانوں کوسربمہر کرنے کے خلاف تاجروں نے کیا احتجاج اور مطالبہ کیاکہ وقف بورڈ عدالتی فیصلے کا انتظار کرکے دوکانوں کوبندکرنے سے یاسربمہر کرنے سے مسئلہ حل نہیںہوگا ۔سات ہزار فیصد کرایہ میں اضافہ کرنا کسی بھی صورت میںقابل قبول نہیں ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق گرمائی دارلخلافہ سرینگر کے مصروف ترین بازار لال چوک کے آفتاب مارکیٹ میں وقف بورڈ کی جانب سے کرایہ ادا نہ کرنے کی پاداش میںسات دوکانوں کو سربمہر کر دیا گیا ۔وقف بورڈ کے اسٹیٹس ونگ نے 18اکتوبر رات دس بجے کے قریب دوکانوں کوسربمہرکردیا جب دوکانداردن کاکام مکمل کرنے کے بعد اپنے گھروں کوگئے تھے کہ ان کے دوکانوں کوسربمہرمہر کیاگیا تھا۔ علی الصبح جب 19اکتوبر کودوکاندار اپنے دوکانوں کوکھولنے اپنے دوکانوں کوکھولنے آئے اور ان پرووقف بورڈکی سیل لگی ہوئی تھی ۔مئیسومہ اور آفتاب مارکیٹ میںدوکانداروںنے وقف بورڈکی اس کارروائی کے خلاف اپنااحتجاج درج کیا۔احتجاج کرنے والے دوکانداروں کاکہناتھاکہ 2015 میں ان کاوقف بورڈ کے ساتھ کرایہ کامعاملہ پیش آ یااور اس وقت کے وائس چیئرمین نظام دین بٹ کے ساتھ مزاکرات ہو ئی ایک سوبیس فیصد کرایہ میں اضافہ کیاگیا۔ہر سال پانچ فیصد اضافہ کرنے پر بھی رضامندی ہوئی جس کے تحت دوکاندار اپناکرایہ ادا کرتے تھے تاہم 2022میں وقف بورڈ نے سات ہزار فیصد کرایہ میں اضافہ کردیا جوبرداشت سے باہر ہے ۔دوکانداروں کے مطابق اس سے قبل بھی وقف بورڈ کی چیرپرسن ڈاکٹردرخشااندرابی نے آفتاف مارکیٹ کادوہ کیااور انہیں بتایاگیاکہ معاملہ عدالتی ہے 18اکتوبر کوعدالت میں پیشی تھی جہاں وقف بورڈنے 15دنوں کی مہلت مانگی دوکانداروں کے مطابق وہ عدالت کے فیصلے کاانتظار کرتے تھے حالانکہ عدالت نے انہیںنصف کرایہ اداکرنے کی ہدایت کی جس پروہ من وعن عمل کررہے تھے دوکاندارمطالبہ کررہے ہیں کہ ان کے دوکانوں کوسربہر نہ کیاجائے معاملہ عدالت میں ہے عدالت کے فیصلے کووقف بورڈکا انتظار کرناچاہئے اور ایسے مسائل بات چیت کے زریعے حل ہواکرتے ہے ہم وقف بورڈ کے ساتھ کوئی مخاصمت نہیں چاہتے ہیں بلکہ معاملے کوپرُامن طریقے سے حل کرنے کے خواہشمندہیں تاکہ دوکاندار بغیرکسی ہچکچاہٹ کے روزی روٹی کماسکے ۔










