منشیات کے خلاف گورنر کے بیان کا خیر مقدم

مولانا اخضر حسین کانوجوان نسل کو بچانے کیلئے اجتماعی جدوجہد پر زور

سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے حالیہ دنوں منشیات کے خلاف دیے گئے سخت بیان کو وادی کی مذہبی و سماجی قیادت نے سراہا ہے۔ انجمن علمائے احناف کے سربراہ اور ممتاز خطیب مولانا اخضر حسین نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے خلاف متحدہ جدوجہد وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔یو این ایس کے مطابق مولانا اخضر حسین نے کہا کہ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے منشیات کے خلاف مسلسل مہم چلا رہے ہیں اور مختلف مساجد، مدارس اور عوامی اجتماعات کے ذریعے نوجوانوں کو اس لعنت سے دور رہنے کی تلقین کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منشیات نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے معاشرے کو تباہ کر دیتی ہے اور خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے یہ زہرِ قاتل ہے۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کے اس بیان کو بروقت اور اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت، علما، اساتذہ، والدین اور سماجی تنظیمیں مل کر کام کریں تو اس ناسور پر قابو پایا جا سکتا ہے۔مولانا نے مزید کہا کہ منشیات کے پھیلاؤ کے پیچھے منظم عناصر سرگرم ہیں جو نوجوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور معاشرے میں بیداری پیدا کی جائے۔انہوں نے عوام، خصوصاً والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے مساجد اور دینی اداروں کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے معاشرتی اصلاح میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔آخر میں مولانا اخضر حسین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئندہ بھی منشیات کے خلاف اپنی مہم جاری رکھیں گے اور ہر ممکن سطح پر نوجوان نسل کو اس مہلک لعنت سے بچانے کی کوششیں تیز کریں گے۔