سرینگر//ملک کے مختلف ریاستوں کے مقا بلے میں جموں وکشمیر میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ وادی کشمیر ہرسال چالیس کروڑ روپے مالیت کی کھانے پینے کی اشیاء ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں سے خرید رہی ہے تاہم اس کے باوجود وادی کشمیر میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہونا حیران کن۔ ادھر عیدالاضحی کے موقعے پر بازاروں میں مہنگائی کاگھوڑا بے لگام ہوگیاہے انفورس منٹ ونگوں کی جانب سے قیمتوں کواعتدال پررکھنے کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیاگیاہے اس پرعوامی حلقوں نے حیرانگی کااظہار کیاہے ۔اے پی آ ئی کے مطابق ماہ جون میں سیول سپلائز کی وزارت نے ملک میں مہنگائی کے حوالے سے سروے کرائی جس کے دوران ملک بھر میں مہنگائی کی شرح 6.26%درج کی گئی جب کہ جموں وکشمیرمیں مہنگائی کی شرح 7.42%ریکارڈ کی گئی ۔جموں وکشمیر بالعموم اور وادی کشمیر بالخصوص ہرسال ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکزی ریاستوں سے چالیس ہزار کروڑ روپے مالیت کاسامان جس میں کھانے پینے کی اشیاء شامل ہے بر آمد کررہی ہے اور ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کے مقابلے میں وادی کشمیرمیں اتنی بڑی خفت ہونے کے باوجود وادی کشمیرکے لوگوں کوقیمتوں کے سلسلے میں کسی بھی طرح کی راحت نہیں پہنچائی جارہی ہے ۔سروے رپورٹ میں کہاگیاہے کہ جموں وکشمیر کیلئے ملک کی مختلف ریاستوں سے96%اشیاء پہنچائی جارہی ہے اور جموں وکشمیر میں زرعی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے۔ اعداد شمار کے مطابق جموں کشمیر میں بالعموم اوروادی کشمیرمیں بالخصوص فصلوںکی پیداوار آبادی کے مقابلے میں دو ماہ کے لئے کافی ہے اور سال کے دس مہینوں کے لئے وادی کشمیرکو ملک کی مختلف ریاستوں پرمنحصر رہناپڑتاہے اس بات کابھی انکشاف کیاہے کہ جہاں چاول آٹا فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے ذریعے راشن گھاٹوں پرلوگوں کوفراہم کیاجاتاہے تاہم نجی سطح پرتاجر ہرسال 350کروڑ روپے مالیت کے غذائی اجناس بھی وادی کشمیرمیں لوگوں کوفراہم کرتے ہے ۔کنزومرپرائز ایکٹ کے تحت جموں وکشمیر میں بھی مہنگائی کی شرح 6.26%ہی ہونی چاہئے تھی تاہم سروے رپورٹ سے جواعدادشمارظاہرہوئے ہے ان کے مطابق جموںو کشمیرمیں مہنگائی کی شرح 7.42%کاہونا حیران کن ہے ۔ادھر عیدالاضحی کی آمدکے موقعے پروادی کشمیرکے بازاروں میں مہنگائی کاگھوڑا بے لگام ہوچکاہے اگر چہ امورصارفین عوامی تقسیم کاری محکمہ کی جانب سے قیمتوں کواعتدال پررکھنے کے لئے پچھلے 72گھنٹوں سے عیدالاضحی کی آمد کے سلسلے میں مہم شروع کی گئی ہے تاہم عوامی حلقوں نے انفورس منٹ ونگ کی اس مہم پرحیرانگی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ جرمانہ وصول کرنا قیمتوں کواعتدال پررکھنے کے لئے معاون ثابت نہیں ہوسکتاہے ۔ناجائز منافہ خوروں سے جوجرمانے کی رقم وصول کی جاتی ہے وہ گاہکوں سے وصول ہورہی ہے انفورس منٹ ونگوں کوچاہئے کہ وہ بازاروں کامعائنہ ناہی کرے اورناجازئز منافہ خوروں کوجوچھوٹ دے رکھی ہے اس کوبر قراررکھے کیوں کہ محکمہ کی مداخلت سے لوگوں کومزی دپریشانیوں کاسامناکرنا پڑتاہے ۔










