سری نگر//مرکزی سیکرٹری محکمہ زراعت وبہبودِ کساناں دیویش چترویدی نے وادی کشمیر میں اہم زرعی اداروں اور مراکز کا دورہ کیا تاکہ جاری منصوبوں کا جائزہ لیا جا سکے اور اِس شعبے کو مضبوط بنانے کے راستے تلاش کئے جا سکیں۔دیو یش چتر ویدی نے اپنے دورے کے دوران پانپور میں قائم اِنڈین انٹرنیشنل کشمیر زعفران ٹریڈ سینٹر (آئی آئی کے ایس ٹی سی) کا معائینہ کیااور اُنہوں نے کٹائی کے بعد کی پروسسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے زعفران کاشتکاروں کی مدد کے لئے متعارف جدید ٹیکنالوجی کی سراہنا کی اور کسانوں کو بہتر قیمت دلوانے کے لئے برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی اہمیت پر زور دیا۔اِس موقعہ پرسیکرٹری کے ہمراہ ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ بشارت قیوم ، ڈائریکٹر ہارٹی کلچر وکاس آنند، ڈائریکٹر ایگری کلچر سرتاج احمد شاہ، محکمہ زراعت کے سینئر افسران اور سائنسدان بھی تھے۔مرکزی سیکرٹری نے لال منڈی میں واقع شہد کی جانچ کی لیبارٹری کا بھی دورہ کیااور اُنہوں نے وہاںشہد کی مصنوعات کے معیار، ویلیو ایڈیشن اور سرٹیفکیشن سے متعلق سہولیات کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے قومی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لئے معیار کی یقین دہانی، سرٹیفکیشن اور ٹریس ایبلٹی کی اہمیت پر زور دیا۔ڈائریکٹر ایگری کلچر کشمیر نے مرکز سیکرٹری کو شعبے کی سرگرمیوں، کامیابیوں اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔بعد میں دیویش چترویدی نے لال منڈی میں قائم فلوری کلچر نرسری کا دورہ کیا جہاں اُنہوں نے کاشت کی جا رہی پھولوں کی اقسام اور خطے میں فلوری کلچر کو ایک منافع بخش زرعی کاروبار کے طور پر فروغ دینے کی صلاحیت کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ افزائشِ نسل کی تکنیک کو مزید بہتر بنائیں اور نوجوانوں و کاروباری افراد میں کمرشل فلوری کلچر کو فروغ دیں۔










