manooj sinha

ماضی میں تشدد اور دہشت گردی کا شکارجموں و کشمیر اب امن کی نئی شناخت بنا رہا ہے

جموں و کشمیر میں ہزاروں لوگوں کو گھر بنانے کیلئے پانچ مرلہ زمین دی گئی ،آٹھ لاکھ نوجوانوں کو خود روزگار دیا گیا / منوج سنہا

سرینگر // ماضی میں تشدد اور دہشت گردی کا شکارجموں و کشمیر اب امن کی نئی شناخت بنا رہا ہے کی بات کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ جہاں بندوقیں گرجتی تھیں، اب مہاتما گاندھی کے ’’بھجن‘‘گائے جا رہے ہیں جب کہ باپو کے اصول ایک نئے جموں و کشمیر کی تشکیل کر رہے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق جموں میں گاندھی گلوبل فیملی کی طرف سے منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران ہزاروں طلباء اور اساتذہ ایک ماہ سے ’’شانتی یاترا‘‘ (امن مارچ) نکال رہے ہیں اور جہاں بندوقیں چلتی تھیں۔اب باپو کے ’بھجن‘ گائے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا’’گزشتہ سال 2 اکتوبر کو ‘شانتی یاترا’ میں 30,000 لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ باپو کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے جموں و کشمیر یقینی طور پر امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا‘‘۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مہاتما گاندھی کے اصول ایک نئے جموں و کشمیر کی تشکیل کر رہے ہیں جو تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے تشدد اور دہشت گردی کا شکار رہا ہے لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ باپو کے نظریات کی پیروی کرتے ہوئے یوٹی آج امن کی سرزمین کے طور پر اپنی نئی شناخت بنا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ہزاروں لوگوں کو گھر بنانے کیلئے پانچ مرلہ زمین دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا’’انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے کہ ایک شخص بھی جو زمین کی عدم موجودگی میں گھر نہیں بنا سکتا، کو چھوڑا نہ جائے‘‘۔سنہا نے انکشاف کیا کہ پچھلے چار سالوں کے دوران جموں و کشمیر میں آٹھ لاکھ نوجوانوں کو خود روزگار دیا گیا ہے۔لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی باپو کے خود کفیل گاؤں اور بااختیار دیہی ہندوستان کے خواب کو پورا کر رہے ہیں۔انہوں نے مشاہدہ کیا کہ انہوں نے نوجوانوں، خواتین، کسانوں اور معاشرے کے پسماندہ طبقے کو بااختیار بنانے کو یقینی بنایا ہے۔ لیفٹنٹ گورنر نے گاندھی گلوبل فیملی کے کی کوششوں کو سراہا، ان تمام تنظیموں اور افراد کو جو گاندھیائی اقدار کو فروغ دینے اور سچائی اور عدم تشدد کے عظیم پیغام کو پھیلانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔