سری نگر//لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہانے شیرکشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ایس کے یو اے ایس ٹی) کشمیر کی چھٹی کانووکیشن تقریب سے خطاب کیا۔ اِس موقعہ پر مرکزی وزیر برائے زراعت و بہبود کساناںاور دیہی ترقی شیو راج سنگھ چوہان مہمانِ خصوصی تھے۔مرکزی وزیر نے فارغ التحصیل طلبأ کو ان کی نئی شروعات پر نیک خواہشات کا اِظہار کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’وِکست بھارت، وِکست جموں و کشمیر اور خوشحال کسان کمیونٹی ہمارا عزم ہے۔ مرکزی حکومت وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میںجموں و کشمیر کو باغبانی کا مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لئے پُر عزم ہے۔‘‘ مرکزی وزیر نے جموں و کشمیر کے اَپنے دورے کاتجربہ بھی اِشتراک کیا۔ اُنہوں نے کہا،’’کشمیر کی قدرتی خوبصورتی اور اس کے لوگوں کی محبت نے میرا دل جیت لیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے اَپنے خطاب میں یونیورسٹی کو ایک قابل اور مسابقتی اِنسانی وسائل تیار کرنے، جموں و کشمیر کے زرعی شعبے کو مضبوط بنانے، اس کی درجہ بندی میں نمایاں بہتری کے لئے مُبارک باد دی اور طلبأکے روشن مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اِظہار کیا۔اُنہوں نے خواتین طالبات کو تمام مضامین میں بہترین تعلیمی کارکردگی پر مُبارک باد دی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ہماری بیٹیوں کو رُکاوٹوں کو توڑتے ہوئے اور زرعی سائنس و ٹیکنالوجی میں کامیابیاں حاصل کرتے دیکھ کر فخر محسوس ہو رہا ہے۔ 150 طلائی تمغے حاصل کرنے والے طلبأ میں سے 115 خواتین تھیں۔ 445 میرٹ سرٹیفکیٹ میں سے 334 طالبات کو دئیے گئے۔ آج کی کانووکیشن میں دی گئی کل 5,250 اَنڈر گریجویٹ، ماسٹرز اور پی ایچ ڈِی کی ڈگریوں میں سے 2,661 ڈِگریاں خواتین طالبات کو دی گئیں۔ یہ جموں و کشمیر اور ملک کے روشن مستقبل کی علامت ہے۔‘‘اُنہوں نے اَپنے خطاب میں جموں و کشمیر میں گزشتہ چند برسوںمیں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں ہونے والے تبدیلی کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
منوج سِنہا نے کہا،’’وزیر اعظم نریندر مودی کی دوراندیش اور بصیرت مند قیادت میں زراعت اور اس سے منسلک شعبے واقعی ہندوستان کی معیشت کا ستون بن چکے ہیں۔ یہ تبدیلی جموں و کشمیر کے زرعی منظرنامے میں بھی واضح ہے۔ آج’ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام( ایچ اے ڈِی پی) پورے ملک میں زرعی اِنقلاب کی مثال بن چکا ہے۔‘‘اُنہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوںمیں جموں و کشمیر نے زراعت اوراس سے منسلک شعبوں کے لئے چار بڑے اہداف جیسے زرعی شعبے کو دیرپا اور کمرشل معیشت میں تبدیل کرنا، ویلیو چین کے ساتھ ایگری بزنس ماحولیاتی نظام بنانا، کسان اور کمیونٹی مرکزیت پر مبنی زرعی ترقی اور کسانوں کی آمدنی بڑھانا اور روزگار کو محفوظ بنانا طے کئے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے فارغ التحصیل طلبأ سے کہا کہ وہ اِختراعی اور ترقی پسند زراعت میں اَپنا گرانقدر حصہ اورقیمتی کردار ادا کریں اور ایگری ٹیکنالوجی، فوڈ ٹیکنالوجی اور جدید اِختراعات میں پیش پیش رہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آپ کا جذبہ اور خیالات ہندوستان کے زرعی شعبے کے مستقبل کو تشکیل دیں گے۔اُنہوں نے کہا،’’تعلیم زِندگی کی تیاری نہیں، تعلیم ہی زندگی ہے اور میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ اگر تعلیم وقت اور عالمی صنعت کی ضروریات کے مطابق ہو تو یہ معاشرے کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے وائس چانسلر اور اُن کی ٹیم کو جدید اور جدید ترین انفراسٹرکچر اور نئی تعلیمی پلیٹ فارم تیار کرنے پر بھی سراہا۔ آرٹیفیشل اِنٹلی جنس، مشین لرننگ، جین ایڈیٹنگ، ری جنریٹیو میڈیسن، سپیڈ بریڈنگ جیسے جدید تحقیقی شعبے جموں و کشمیر کو علم کی معیشت بنانے کے ہدف کے قریب لے آئے ہیں اور اس نے جموںوکشمیر یوٹی کی بائیو اکانومی کو فروغ دینے کا موقع فراہم کیا ہے۔وائس چانسلر سکاسٹ ( ایس کے یو اے ایس ٹی ) کشمیر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے یونیورسٹی کی رِپورٹ پڑھ کر سُنائی اور یونیورسٹی کی تعلیمی، تحقیقی اور توسیعی سرگرمیوں کو اُجاگر کیا۔اِس موقعہ پر مرکزی وزیر برائے زراعت اور بہبودِ کساناں نے سکاسٹ کشمیر میں لڑکیوں کے ہوسٹل کی بنیاد رکھا۔تقریب میں وزیرا علیٰ عمر عبد اللہ، نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزیر زراعت و بہبود کساناں جموںوکشمیر جاوید احمد ڈار، وزیر برائے تعلیم، صحت و طبی تعلیم اور سماجی بہبود سکینہ اِیتو،چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، پرنسپل سیکرٹری زرعی پیداوار شیلندرکمار، مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہان، سینئر اَفسران، معززشہری، فیکلٹی ممبران، عملہ، فارغ التحصیل طلبأ اور اُن کے والدین موجود تھے۔










