پد یاترا میں ہزاروں شہریوں نے حصہ لیا ، نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان کے تحت 100 دن کی مہم کا آغاز ہوا
جموں//نشہ کی لعنت کے خلاف فیصلہ کُن جنگ کی قیادت کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز ایم اے سٹیڈیم جموں سے ’’ ڈرگ فری جموں و کشمیر ‘‘ کی تاریخی عوامی تحریک کا آغاز کیا ۔ لفٹینٹ گورنر نے پد یاترا کا پرچم لہرایا اور عوامی نمائندوں ، اعلیٰ افسران اور ہزاروں شہریوں کے ساتھ ایم اے سٹیڈیم سے پریڈ گراؤنڈ تک والک تھان ( پیدل مارچ ) میں شامل ہوئے ، جو ’’ نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان ‘‘ کے تحت 100 دنوں کی شدید مہم کا آغاز ہے ۔ ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے نشہ کی لعنت سے جموں و کشمیر کو پاک کرنے کی پُر زور اپیل کی ۔ انہوں نے کہا ’’ ہم نے ایک ایسا عزم کیا ہے جس کی آواز یونین ٹیریٹری کے ہر گاؤں ، ہر قصبے ، ہر شہر ، ہر گھر اور ہر دھڑکن تک پہنچے گی اور ہم ڈرگ فری خطے کا وعدہ پورا کریں گے ۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ آئندہ تین ماہ انتہائی اہم ہیں جن میں مہم چھ واضح مراحل ، بیداری کے ڈرائیوز ، نوجوانوں پر توجہ مرکوز کرنے والے ایونٹس ، کمیونٹی انگیجمنٹ ، سخت نفاذ قانون ، بحالی ( ری ہیبلی ٹیشن ) اور جائیزہ ( ایویلیویشن ) میں آگے بڑھے گی ۔ ہم حکومت کے نقطہ نظر کے ساتھ آگے بڑھیں گے تا کہ جموں و کشمیر کو منشیات کے خطرے سے نجات دلائی جا سکے ۔ لفٹینٹ گورنر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کا خاتمہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے جو ہم سب پر عائد ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ ہم پختہ عزم کے ساتھ وعدہ کرتے ہرتے ہیں کہ انتظامیہ کسی بھی نوجوان ، خاندان یا خواب کو لت کی تاریک گہرائی میں نہیں گرنے دے گی ۔ مجھے یقین ہے کہ منشیات کی لت کے اعداد و شمار محض فیصد اور کیس فائلوں کی شکل میں نظر آتے ہیں ، لیکن ان کے پیچھے ایک زندہ کہانی ، ایک خاندان کی جدوجہد اور اذیت چھپی ہوئی ہے ۔

ڈرگ فری جموں و کشمیر مہم صرف ہمدردی کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ اجتماعی عمل کا مطالبہ کرتی ہے کیونکہ یہ ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی بحران ہے نہ کہ ایک خاندان کا سانحہ بلکہ ہم سب کیلئے ایک چیلنج ہے ۔ ایک ساتھ غیر متزلزل عزم کے ساتھ ہم منشیات کی اس لعنت سے لڑیں گے اور اسے شکست دیں گے ۔ ‘‘ لفٹینٹ گورنر نے جموں و کشمیر یو ٹی سے منشیات کے خطرے کو ختم کرنے کیلئے ڈرگ اسمگلروں کے خلاف فیصلہ کن اور نہایت سخت کارروائی کا عام ظاہر کیا ۔ انہوں نے کہا ’’ جو لوگ معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں ان پر قانون کا مکمل اور نہایت سخت وزن نافذ کیا جائے گا ۔ ہمارا پڑوسی ملک سرحد پار سے اسمگلنگ کے ذریعے ہماری برادریوں کو زبر دے رہا ہے اور ہمارے قوم کے مستقبل کو کمزور کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر قفسر کی ایک ہی ذمہ داری ہے ، یہ سب کچھ روکنا ہو گا ۔ ان قانون کی پوری طاقت اسمگلروں کے خلاف متوجہ کر دی گئی ہے ۔ ان کے نیٹ ورکس کو فوری طور پر ختم کیا جائے گا ۔ ‘‘ ایک سخت انتباہ میں لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ ڈرگ اسمگلروں کی جائیداد ضبط کی جائے گی ، سرغنوں کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے اور سزا فوری طور پر دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا ’’ انتظامیہ ان تمام لوگوں کی ساری جائیداد ضبط کرے گی ، ان کے لائسنس ، پاسپورٹ ، آدھار کارڈ منسوخ کر دے گی اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دے گی ۔ ڈرگ اسمگلروں کے خلاف یہ کریک ڈاؤن نسلوں تک گونجتا رہے گا ۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے منشیات کے اسمگلروں کے خلاف ایک نیا ایس او پی جاری کیا ہے ۔ اس ایس او پی کے تحت ہم نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث اسمگلروں کے پاسپورٹ ، ڈرائیونگ لائسنس ، آدھار نمبر اور ہتھیاروں کے لائسنس منسوخ کر دئیے جائیں گے ۔ اگر وہ فرار ہو رہے ہوں تو فوری طور پر ان کے خلاف لُک آؤٹ سرکولر جاری کر دیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت منسلک کر لی جائے گی ، بینک اکاؤنٹس منجمد کر دئیے جائیں گے اور مالیاتی تحقیقات شروع کی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ 2 اپریل کو ہم نے جموں و کشمیر سبسٹنس یوز ڈس آرڈر ٹریٹمنٹ ، کاؤنسلنگ اینڈ ری ہیبلی ٹیشن سینٹرز رولز 2026 کی اطلاع دی تھی ، جس سے یقینی بنایا جائے گا کہ ہر سنٹر حقیقی ہو ، نشے کا شکار مریضوں کیلئے وقف ہو ، تمام مطلوبہ انسانی وسائل سے لیس ہو اور مسلسل نگرانی میں ہو ۔ ان مراکز کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو سپورٹ سٹاف کے بغیر چل رہے ہوں یا قواعد کی خلاف ورزی کر رہے ہوں ۔ ‘‘

لفٹینٹ گورنر نے سینئر افسران کو ہدایات دیں کہ شکایات پر فوری کارروائی کی جائے اور پنچائتیں ، محلہ کمیٹیاں ، چولیداروں ، لمبرداروں اور وارڈ نگرانی کمیٹیوں کی مدد سے گراس روٹ انٹیلی جنس کو مضبوط کیا جائے تا کہ ہر مجرم کی نشاندہی کی جائے اور انہیں سزا دی جائے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ ڈرگ فری جموں و کشمیر مہم میں ہماری طاقت اجتماعی کارروائی میں ہے ۔ جب محکمے ایک مشترکہ مقصد کے ساتھ متحد ہوتے ہیں تو ہم کامیاب ہوتے ہیں ۔
سال 2021 کے اوائل سے ہم منصوبہ بندی سے آگے بڑھ کر فیصلہ کُن کارروائی کی طرف بڑھ چکے ہیں ۔ ہم ڈرگ فری جموں و کشمیر کیلئے ایسے اقدامات کامیابی سے نافذ کر رہے ہیں جو پہلے چھوئے نہ گئے رلاقوں تک پہنچے ہیں ، سکولوں میں نوجوانوں کو شامل کیا ہے اور بحالی کے خدمات کو وسعت دی ہے ۔ کوئی بھی فرد اس جنگ میں اکیلا نہیں ہے ، انتظامیہ پوری طرح سے پرعزم اور مضبوطی سے کھڑی ہے ۔ ‘‘ لفٹینٹ گورنر نے نوجوانوں ، سوشل ورکرز ، کمیونٹی لیڈرز ، اساتذہ ، خواتین اور کھلاڑیوں سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں اس مہم میں حصہ لیں کیونکہ وہ اس مہم کے چہرے ، طاقت اور مستقبل ہیں ۔ انہوں نے کہا ’’ اگلے تین ماہ تبدیلی کے پائیدار بیج بوئیں گے ۔ آئیے اینٹی ڈرگ سپورٹس ٹورنامنٹس جوش و خروش سے بھر پور ہوں ، مباحثے نوجوانوں کے عزم کو مزید پختہ کریں ، کوئزز میں شعور پیدا ہو ۔ ڈرگ سے متاثرہ علاقوں کی درست نقشہ بندی کریں ، اتحاد کی ریلیاں ، پد یاترا محلے محلے میں حوصلہ افزائی کریں ، پنچائتوں سے لیکر شہروں تک میراتھن دوڑیں یہ اعلان کریں کہ جموں و کشمیر کبھی بھی نشے کے سامنے جھکے گا نہیں ۔ ‘‘

لفٹینٹ گورنر نے زور دے کر کہا کہ گاؤں کی چوپالوں سے لیکر ضلعی ہیڈ کوارٹرز تک ہر پروگرام میں عوامی تحریک کا جذبہ موجود ہونا چاہئیے ، اس کے بعد جائزے لئے جائیں کیونکہ فیڈ بیک ہی ہمارا کمپاس ہو گا جس سے ہم اپنی حکمت عملی کو بہتر بنائیں گے ، منصوبہ بندی کریں گے اور زیادہ مضبوطی سے عمل کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا ’’ 11 اپریل ایک رسمی آغاز نہیں بلکہ ایک تبدیلی کی طرف بڑھنے والا پہلا قدم ہے ۔ آئیے ہم ایک ایسی تحریک بنائیں جو اتنی وسیع ، اتنی پختہ عزم والی اور اتنی گہری عوام کی بنیاد پر ہو کہ وہ ایک منشیات سے پاک جموں و کشمیر کی بنیاد رکھ دے ۔ ‘‘ اس موقع پر لفٹینٹ گورنر نے شہریوں کو ’’ اینٹی ڈرگ پلیج ‘‘ ( منشیات کے خلاف حلف ) دلایا اور سرکاری مہم کے آفیشل ماسکٹ کا بھی انکشاف کیا ۔ آگاہی ویڈیو ، گانے اور مشہور فنکاروں کی ثقافتی پرفارمنسز نے جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کا پیغام بلند کیا ۔ پد یاترا کا راستے میں کاروباری تنظیموں ، سول سوسائٹی کے اراکین اور مختلف اسٹیک ہولڈرز نے پرتپاک استقبال کیا ۔










