کنیکٹکٹ: سائنس دانوں نے موسمیاتی تغیر کی وجہ سے قطبین پر پگھلتی برف کو دوبارہ جمانے کے لیے دلچسپ منصوبہ پیش کیا ہے۔ایک نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اونچی پرواز کرنے والے جہازوں کی مدد سے مائیکرو اسکوپک ایروسل ذرّات کو قطبین کے ماحول میں 60 ڈگری ارض البلد سے پھینکے جاسکتاہے۔سائنس دانوں کے مطابق اگر 43 ہزار فِٹ سے ان ایروسلز کو پھینکا جائے تو وہ آہستہ آہستہ سطح کی جانب جائیں گے اور ایک تہہ بنادیں گے۔یہ اضافی تہہ پگھلتے قطبین کو دوبارہ جما دے گی اور پگھلتے گلیشیئر اور سمندروں کی بڑھتی سطح کے مسئلے کو ختم کرے گی۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تکنیک شمسی شعاؤں کو واپس خلاء میں بھیج کر موسمیاتی تغیر کے اثرات کو کم کرے گی۔اسٹریٹوسفیرک ایروسل انجیکشن نامی اس منصوبے پر ہر سال 11 ارب ڈالرز لاگت آئی گی لیکن محققین کے مطابق یہ طریقہ موسمیاتی تغیر سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے دیگر طریقوں سے کم مہنگا ہوگا۔یہ نیا منصوبہ اِنوائرنمنٹل کمیونیکیشن نامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں پیش کیا گیا۔ یہ تحقیق امریکا کی ییل یونیورسٹی کے ویک اسمتھ کی رہنمائی میں کی گئی۔
30دن میں ایران کے خلیجی ممالک پر 5200میزائیل حملے
’آبنائے ہرمز‘ معاملہ سے ٹرمپ کے الگ ہونے پر ایران کا کھلا آفر ’ہم سے آ کر ڈیل کیجیے‘
جنگ میں کھل کر ایران کی حمایت کرنے والے اسپین پر آئی مصیبت، گھیرا بندی کی تیاری میں امریکہ
ٹرمپ کی ایران کو پتھروں کے دور میں بھیجنے کی دھمکی
پچھلے 5سالوں میں روزانہ 20سے زیادہ ہندوستانی کارکن کی بیرون ملک میں اموات :سرکاری اعداد و شمار
دہلی- این سی آر میں 462فیکٹریوں پر لٹکی تلوار، آلودگی کے سبب سی پی سی بی نے جاری کیا الٹی میٹم
نتیش کمار 10اپریل کو راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر حلف لیں گے
ایل پی جی کی قلت کے سبب کانپور کی ’بدنام قلفی‘ غائب، گرمی میں ٹھنڈی چُسکی نہ ملنے سے لوگ مایوس
کیرالہ میں وزیر اعظم مودی اور ایل ڈی ایف پر جم کر برسیں پرینکا گاندھی، پینارائی وجین کو ’مودی کی بی-ٹیم‘ قرار دیا
اے اے پی نے راگھو چڈھا کو ہٹانے کا مطالبہ کیا، انہیں راجیہ سبھا میں بولنے سے روکنے کو کہا










