سری نگر//پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجادغنی لون نے ریاستی درجے کی بحالی کوانتخابات سے نہ جوڑنے کی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ہم دہلی کیلئے جموں وکشمیر قابل قبول ماحول بنانے کیلئے کوشش کریں گے تاکہ اُن کوفراہمی میں سہولت ہو۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں وزیراعظم مودی کی زیرصدارت منعقدہ کل جماعتی میٹنگ میں شرکت کے بعدیہاں پارٹی جنرل سیکرٹری عمران رضاانصاری اورسینئرلیڈر بشارت بخاری کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ کل جماعتی میٹنگ میں شامل جموں وکشمیرکے سبھی لیڈروں نے اپنے لوگوں کے فخر کوقائم رکھا۔ سجادغنی لون کاکہناتھاکہ کل جماعتی اجلاس میں شامل تمام لیڈروں نے جموں وکشمیرکے لوگوں کے جذبات کی ترجمانی ،نمائندگی اوردردکی عکاسی بھی کی ۔پیپلز کانفرنس کے چیئرمین نے کہا کہ یہ بات عیاں ہے کہ جو لوگ(لیڈر) لوگوں کی نمائندگی کیلئے نئی دہلی پہنچیں گے وہ کبھی بھی لوگوں کے جذبات کی بے عزتی نہیں کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اجلاس میں شریک ہونے اور بولنے والے تمام افرادیعنی لیڈروں کو مساوی نمبر دوں گا۔سجادغنی لون نے اجلاس کے نتیجے کااحاطہ کرتے ہوئے کہاکہ آج کی تاریخ میں ، کوئی فاتح یا شکست خورد نہیں ہے، یہ ایک طویل عمل ہے،اورہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دہلی کو فراہمی کی سہولت دینے کیلئے یہاں قابل قبول ماحول بنانے میں اپنا رول نبھانا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اس بارے میں ہمیں بیان بازی سے احتراض کرنا چاہئے۔ سجادلون نے کہاکہ بھارت انتخابات کی سرزمین ہے،یہاںہر چھ یا آٹھ ماہ بعد ایک الیکشن ہوتا ہے۔ آئیے بیان بازی نہ کریں اور ایسا ماحول پیدا نہ کریں جہاں دہلی کیلئے فراہمی مشکل ہوجائے۔انہوں نے کہاکہ اگر فراہمی مشکل یا تاخیر کا شکار ہوجائے تو صرف جموں و کشمیر کے لوگوں کوہی نقصان اٹھانا پڑے گا۔پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجادغنی لون نے کہا کہ ہماری پارٹی یہاں ایک قابل ماحول بنانے کی کوشش کرے گی تاکہ دہلی کو فراہمی میں آسانی ہو۔انتخابات کے بعدریاستی درجے کی بحالی کیلئے کوئی یقین دہانی کرائے جانے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سجادغنی لون نے کہاکہ میں یہ کہوں گا کہ ریاستی درجے کو اب بحال کرنا چاہئے۔ خیرات کے طور پر نہیں ، بلکہ حق کے طور پر ، اب اسے بحال کرنا چاہئے۔ تاہم انہوں نے واضح کیاکہ میں انتخابات کو ریاستی درجے کے ساتھ نہیں جوڑوں گا۔سجادغنی لون کا مزید کہنا تھا کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔انہوں نے محبوبہ مفتی اوردوسرے لیڈروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں انتخابات کا بائیکاٹ کرئوں گا اور پارٹی مقابلہ کرے گی۔انہوں نے کسی لیڈرکانام لئے بغیرکہاکہ میں ان سے زیادہ اخلاقی نہیں ہوں۔ ہم یکساں طور پر لڑیں گے۔سجادغنی لون نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ اگر پارٹیوں کو دور رکھنا ایک جال ہوگا۔انہوں نے کہاکہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ ہمیں دوسری طرف دیکھنے چاہئے کہ مخالفین کو دور رکھنا بھی ایک جال ہوسکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں ، انہوں نے کہا کہ اُن کی پارٹی کو دعوت دی گئی ہے تو حد بندی کی مشق میں حصہ لے گی ،تاہم انہوںنے کہاکہ یہ عمل علاقوں اور خطوں میں منصفانہ ہونا چاہئے۔










