farooq abdullah

غنڈہ گری اور ڈنڈے کا راج ختم،جموں وکشمیر میں ایک جوابدہ جمہوری حکومت قائم

میڈیا جس کو آج تک دبایا گیا تھا لیکن ہم دبانے والے نہیں ،ہر غلطی کی نشاندہی کی جائے :ڈاکٹر فاروق عبد اللہ

سرینگر // عوام اور میڈیا دونوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے کی گئی کسی بھی غلطی کے لئے حکمران جماعت کو جوابدہ ٹھہرائیں کی بات کرتے ہوئے صدرِ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ اقتدار میں رہنے والوں سے سوال کرنے کے خوف کا دور ختم ہو چکا ہے۔سی این آئی کے مطابق اپنی رہائش گاہ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اب ہر کسی کو کسی بھی غلط کام پر حکومت سے سوال کرنے کی مکمل آزادی ہے جبکہ میڈیا ایسے مسائل اٹھا سکتا ہے جو پہلے دبائے گئے تھے۔ہمیں لوگوں نے ووٹ دیا ہے، لوگ چاہتے ہیںکہ ہم اُن کے کام کریں اور ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ جہاں ہماری غلطی ہے اُس کی نشاندہی کی جائے، آپ کو آج تک دبایا گیا تھا لیکن ہم دبانے والے نہیں ہیں ، آپ آزادی سے اپنے فرائض انجام دیجئے۔غنڈہ گری اور ڈنڈے کے راج کا دور ختم ہوگیا ہے، جموںوکشمیرمیںایک جمہوری نظام قائم ہوگیا ہے، اب لوگوں کو سب کچھ جاننے کا حق ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ غربت بڑھ رہی ہے، بے روزگاری بھی عروج پر ہے، اور حکومت کو ان مسائل کو حل کرنا چاہیے اور ان سے نمٹنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔‘‘ اڈانی کیخلاف رشوت ستانی اور جموں وکشمیر میں 2021-22میں افسران کو رشوت دینے کے انکشاف سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جوا ب میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت سے رشوت خوری کے الزامات کی تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ’’جے پی سی کا مطالبہ کیا گیا ہے، اور مجھے امید ہے کہ مرکز اسے سنجیدگی سے لے گا اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرے گا۔ اس پر پہلے بھی الزام لگایا گیا ہے، اور جہاں تک جموںوکشمیر میں رشوت دینے سے کا سوال ہے ہر چیز کی مرحلہ وار جانچ کی جائے گی، جس میں ایک افسر کے ذریعہ 3000 کروڑ روپے کے جل شکتی فراڈ کی اطلاع بھی شامل ہے۔