ریزرویشن پر بات کرنے والے آج کیوں شور مچا رہے ہیں؟
سرینگر/ وی او آئی//جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھرتی میں ریزرویشن سے متعلق کابینہ کی سب کمیٹی کی رپورٹ پر اپنی رائے دیتے ہوئے مخالفین پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب محبوبہ مفتی کو ووٹوں کی ضرورت تھی تو انہوں نے اپنی پارٹی کے ارکان کو ریزرویشن پر بات کرنے سے روک دیا تھا۔ وائس آف انڈیا کے مطابق انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب محبوبہ مفتی اننت ناگ سے انتخابات لڑ رہی تھیں اور راجوری و پونچھ سے ووٹوں کی ضرورت تھی، تو اس وقت ریزرویشن پر خاموشی کیوں اختیار کی گئی؟سجاد لون کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ پانچ برس تک حکومت کے قریب تھے، جب ریزرویشن سے متعلق فیصلے ہو رہے تھے۔ جب ہمیں سرکاری رہائش سے نکالا گیا اور ہماری سیکیورٹی کم کی گئی، تب وہ سرکاری رہائش میں موجود تھے۔ اس وقت ریزرویشن پر کوئی بات کیوں نہ کی؟ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مجھے وقت ضائع کرنا ہوتا تو میں سب کمیٹی کو مزید چھ ماہ دے دیتا۔ کیا ان کے پاس کوئی اختیار تھا کہ وہ مجھے رپورٹ مکمل کرنے پر مجبور کرتے؟۔وزیر اعلیٰ کے مطابق کابینہ نے سب کمیٹی کی رپورٹ کو منظوری دے دی ہے اور اب یہ رپورٹ قانونی محکمہ کو بھیجی گئی ہے تاکہ وہ اپنی رائے دے سکیں۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ریزرویشن پالیسی کو لے کر سیاسی فضا میں تناؤ بڑھ رہا ہے اور مختلف رہنما اپنے بیانات کے ذریعے ایک دوسرے کو نشانے پر لے رہے ہیں۔










