خوراک کی تلاش میں بستیوں میں گھس جاتے ہیں۔ لوگ شام کے بعد گھروں سے اکیلے نکلنے سے گریز کریں
سرینگر///جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں وادی کے دیگر اضلاع میں سب سے زیادہ جنگلی جانور جنگلوں میں موجود ہیں تاہم ان جنگلوں میں جنگلی جانور غذا کی تلاش میں یا تو اپنے چھوٹے جانوروں پر حملہ کرکے اپنی بھوک مٹادیتے ہیں یا پھر بستیوں کی طرف رْخ کرکے میویشیوں کو اپنا نشانہ بنادیتے ہیں اسکے علاوہ جنگلی جانور انسانوں پر بھی حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس لئے لوگ شام کے بعد اپنے گھروں سے اکیلے نکلنے سے گریز کریں۔ وائس آف انڈیاکے نمائندے امان ملک کے مطابق وادی کشمیر میں رواں برس کی پہلی برفباری ہوئی ، وہیں پر جنگلی جانور بھی خوراک سے محروم ہوچکے ہیں اور اب جنگلی جانور بستیوں میں آکر مویشیوں کو اپنانشانہ بناتے ہیں۔ ضلع اننت ناگ وادی کشمیر کے سب سے زیادہ جنگلاتی علاقے کیلئے مشہور ہے۔ خطہ پیر پنچال یا ہمالیہ رینج ضلع اننت ناگ کے حدود میں آتا ہے جہاں پر جنگلی جانور بھی کافی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ اس صورتحال پر محکمہ وائلڈ لائف نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ جنگلی جانوروں کے خلاف خودسے کوئی کارروائی نہ کریں۔ جنگلوں میں رہنے والے جنگلی جانور خوراک سے محروم ہوچکے ہیں۔ چیف وائلڈ لائف وارڈن جنوبی کشمیر نے وی او آئی نمائندے امان ملک کو بتایا جنگلی جانور اپنی بھوک مٹانے کیلئے چھوٹے جانوروں پر حملے کرتے ہیں اور خوراک کی تلاش میں بستیوں کی طرف جانے کیلئے مجبور ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فطری عمل ہے بھوک اور پیاس مٹانے کیلئے ہر کوئی مخلوق اپنے ہاتھ پا? مارتا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ شام کے بعد اپنے گھروں سے اکیلے نکلنے سے گریز کریں اور کسی مجبور کے سبب اگر گھروں سے نکلنا پڑے تو تین چار افراد ساتھ چلیں اور ساتھ میں روشنی کیلئے کوئی چیز ضرور رکھیں۔ انہوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ اگر کہیں پر جنگلی جانور دیکھے تو درج زیل نمبرا ت پر فون کریں۔7889844194، 70064 47685 انہوں نے کہا کہ کسی جنگلی جانور کے خلاف لوگ تشددکرنے سے گریز کریں۔










