شہرہ آفاق سیاحتی منزل گلمرگ کا نئی اونچائیوں پر لے جانے کیلئے جی ڈی اے انتظامیہ کا رول انتہائی اہمیت کا حامل

ٹورازم ٹریڈ سے وابستہ چھوٹے کاروباریوں بشمول دکاندار ،ٹرانسپورٹر،پارکنگ مالکان ،گائیڈاور مزدور طبقے کے ساتھ ہمدردانہ اور شفقت آمیز سلوک لازمی

سرینگر//شہرہ آفاق سیاحتی منزل گلمرگ اگرچہ ملکی و غیرملکی سیاحوں کی ایک مستند پسندیدہ مقام ہے کی ترقی میں یہاں کے چھوٹے کاروباریوں خصوصا مزدور طبقے نے نمایاں رول ادا کیا ہے۔مذکورہ طبقے کو امید ہے کہ نئی جی اے ڈی انتظامیہ انکے ساتھ ہمدردانہ اور شفیقانہ رویہ اختیار کرے گی اور گلمرگ میں ٹورازم ٹریڈ پر اجارہ داری رکھنے والے گروپوں جنہوں نے غیر قانونی طور سینکڑوں کنال جنگلاتی اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے کے خلاف سخت رویہ اختیار کرے گی۔ مقامی سماجی کارکن اور گلمرگ حلقہ انتخاب سے متوقع انتخابی امیدوار عادل نذیر نے نئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر گلمرگ طاہر اعجاز کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہاہے کہ ہم مقامی ہوٹل مالکان،چھوٹے دکانداروں ،مرکبانوں،ٹرانسپورڑوں اور کارپارکنگ مالکان کے علاوہ مزدور طبقے کی طرف سے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں ساتھ ہی چند اہم گذارشات بھی سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔عادل نذیر کا کہنا ہے چوکہ مذکورہ آفیسر راجوری سے تعلق رکھتے ہیں اور اب چند برسوں سے راولپورہ سرینگرمیں رہائش پذیر ہیں،ہوسکتا ہے کہ انہیں ابھی یہاں کے انتظامی امور چلانے میں کم معلومات ہوں ،ایسے میں مقامی چھوٹے کاروباریوں کے مسائل سے انہیں آگاہی دینا چاہتے ہیں۔عادل نذیر نے کہاکہ گلمرگ کے مقامی دکانداروں ،مرکبانوں ،ٹی اسٹالز،سومو و کیب ڈرائیور،پارکنگ مالکان اور خصوصا مزدور طبقہ حسب سابق شفقت اور ہمدردی کا مستحق ہے کیونکہ اسی طبقے نے گذشتہ تین دہائیوں میں نامساعد حالات کے دوران سخت مشکلات کا سامنا کیا ہے۔انہوں نے از خود یہاں کا ٹورازم ٹریڈ چلایا ہے اور انتہائی کم وقلیل آمدنی پر گذارا کیا ہے۔عادل نذیر کا کہنا تھا کہ گلمرگ گذشتہ دہائیوں کے نامساعد حالات سے ابھر کر پھر سے بین الاقوامی سطح پر سیاحتی منزل کے طور فروغ پارہی ہے اور اب ملکی و بین الاقوامی سطح پر سیاحوں کی توجہ اس جانب مرکوز ہورہی ہے ایسے میں مقامی غریب ہوٹل مالکان ،ریستوران،مرکبان اور دکانداروں کا کاروبار بھی پنپنے لگا ہے۔ایسے میں انکی جانب بہتر سلوک ہی اس اہم سیاحتی منزل کے مزید فروغ کیلئے ضروری ہے۔اگر متعلقہ اتھارٹی افسران غیر قانونی امور کیخلاف کارروائی کرنا چاہتے ہیں تو ایسے میں انہیں ان بڑے مگرمچھوں سے شروعات کرنی چاہئے جنہوں نے اپنے اثر ورسوخ کافائدہ اٹھا کر یہاں کی زمین ،جنگلات،اور مجموعی طور ٹورازم ٹریڈ پر اجارہ قائم کیا ہوا ہے۔اگر جی اے ڈی واقعی کارروائی کرنا چاہے گی تو سبھی اس کا ساتھ دیں گے۔عادل نذیر نے کہاکہ سابق سی ای او راجا وسیم ،جوکہ ایک مقامی آفیسر ہیں ،کے دور میں چھوٹے کاروباری بہت ہی پر سکون تھے کیونکہ مذکورہ آفیسر کا رویہ اور لہجہ ان کیلئے شفقت سے بھرا ہوا تھا۔اس سے قبل دیگر افسران بشمول حنیف بلخی ،شفقت اقبال،عبدالعزیز راتھر،انعام الحق اورغلام جیلانی کے دور میں بھی غریب اور چھوٹے کاروباریوں نیز مزدور طبقے کے ساتھ بہترین سلوک روا رکھا گیا جس کی وجہ سے ہی ان ادوار میں گلمرگ کے سیاحتی شعبے نے کافی ترقی کی۔اس حوالے سے مقامی کاروباری طبقوں کی نمائندہ نجمنیں بشمول مرکبان (Pony wala)ایسوسی یشن،اے ٹی ایسوسی ایشن ،ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن ،ٹریڈرس ایسوسی ایشن،ٹورسٹ گائیڈ ایسوسی ایشن گلمرگ بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں اور موجودہ جی ڈی اے انتظامیہ سے اسی طرح کا رویہ اختیار کرنے کی امید کرتے ہیں۔اسکے علاوہ ٹنگمرگ سے گلمرگ تک پولیس کا انتہائی اہم رول رہا ہے جنہوں نے ہر صورت میں امن وامان قائم کیا اور ساتھ ہی سیاحوں کی حفاظت اور ان کی سہولیات کا ہر طریقے سے خیال رکھا۔مقامی ایسوس ایشن اسی طرح کا طرز عمل دیکھنا چاہتے ہیں۔اب امید ہے کہ یہی رویہ جاری رکھ کر جے اے ڈی سی ای او گلمرگ کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔سماجی کارکن کا کہنا تھا کہجی اے ڈی اور ان کا عملہ یہاں کے بڑے مگرمچھوں ،جنہوں نے یہاں کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کئے ہیں اور حتی کہ جنگلاتی اراضی کو بھی بخش نہیں رہے ہیںکے خلاف سخت لہجہ اور رویہ اپنائیں۔عادل نذیر نے گلمرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مقامی عملے سے بھی اپیل کی کہ وہ متاثرین کے ساتھ ہمدردی اور شفقت کا مظاہرہ کریں کیونکہ انہیں ہی اس بات کا بھرپور علم ہے کہ گلمرگ پر کون اجارہ داری رکھتا ہے اور کون غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جی ڈی اے کی کارروائیوں کو بھرپور طریقے سے دیکھ رہے ہیں۔