کپواڑہ//سیکرٹری سیاحت و ثقافت سرمد حفیظ جو ضلع کپواڑہ کے ترقیاتی کاموں اور دیگر متعلقہ اَمور کی نگرانی کے لئے اِنچارج سیکرٹری بھی ہیں ، نے ضلع کپواڑہ کا دورہ کر کے ضلع ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا ۔اُنہوں نے ڈی ڈی سی ممبران ، بی ڈی سی چیئرپرسن او رضلعی اَفسران کے ساتھ الگ الگ میٹنگیں منعقد کیں۔میٹنگوں میں وائس چیئرمین ضلع ترقیاتی کونسل کپواڑہ حاجی فاروق احمد میر اور ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ اِمام الدین بھی موجود تھے۔سیکرٹری سیاحت و ثقافت نے میٹنگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ضلع کپواڑہ کے دورے کا مقصد حکومت کی طرف سے زمینی سطح پر شروع کی گئی ترقیاتی سکیموں کی عمل آوری میں پی آر آئیز سے رائے طلب کرنا اور اِنتظامیہ اَفسران کے ساتھ پیش رفت کی رفتارکے بارے میں جائزہ لینا ہے۔سرمد حفیظ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جو بڑی حصولیابی درج کی گئی ہے وہ سہ درجے پنچایتی راج نظام کا قیام ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک بار جب سسٹم کو مکمل طور پر درست طریقے سے ریگولیٹ کیاجائے گا تو اس کے فوائد عوام تک آسانی سے پہنچ جائیں گے۔سیکرٹری نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ عوامی خدمات کی فراہمی نظام میں متحرک رہیں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر اور چیف سیکرٹری نے نظام میں کارکردگی اور شفافیت لانے کے لئے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔سیکرٹری نے کہا ،’’ ہم لوگوں کے لئے دفاتر میں موجود ہیں اور ہر اَفسراور اہلکار اَپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق عوام کی خدمت کا پابند ہے۔‘‘سیکرٹری سیاحت و ثقافت نے مختلف سرکاری دفاتر میں عملے کی کمی کے حوالے سے پی آر آئی کی طرف سے اُٹھائے گئے مسائل کا جواب دیتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر سے کہا کہ وہ جہاں ضروری ہو تعیناتی کی جگہ پر وقت کی پابندی کو یقینی بنانے کے لئے بی ڈی اوز اور دیگر عملے کے لئے روسٹر جاری کریں۔ اُنہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ سرکاری دفاتر میں حاضری کو مناسب طریقے سے نافذ کیا جائے بالخصوص کرناہ، کیرن اور مژھل سرحدی علاقوں میں تاکہ لوگوں کو سرمائی مہینوں میں کسی قسم کی دِقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔سیکرٹری نے ضلع میں سرمائی مہینوں کے دوران ہیلی کاپٹر سروس کی دستیابی کے بارے میں کہا کہ حکومت نے مختلف سرحدی راستوں کے لئے ہنگامی خدمات کے لئے رعایتی نرخوں پر ہیلی کاپٹر سروس کو منظور ی دی ہے جس میں کرناہ ، کیرن اور مژھل بھی شامل ہیں۔اُنہوں نے سماجی بہبود سکیموں کے تحت اِندراج کے سلسلے میں کرناہ سب ڈویژن سمیت ضلع میں خصوصی کیمپوں کے اِنعقاد پر زور دیا تاکہ مستحق اَفراد ان کی دہلیز پر استفادہ حاصل کرسکیں۔ سیکرٹری نے ڈسٹرکٹ کیپکس بجٹ ، بی اے ڈی پی اور ضلعی پروگرام کے تحت ضلع کے ترقیاتی کاموں کی پیش رفت کی رفتار کا جائزہ لینے کے لئے ضلعی اَفسران کے ساتھ میٹنگ طلب کی۔ضلع ترقیاتی کمشنر اِمام الدین نے ضلع کے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے تفصیلی پاور پوائنٹ پرزنٹیشن دی اور چیئرمین کو بتایا کہ رواںمالی سال کے کل منظور شدہ 77959.8 روپے میں سے 75فیصد فنڈس یعنی 16963.65لاکھ روپے واگذار کئے گئے ہیں۔جس میں سے 8875.70لاکھ روپے اِس سال اکتوبر کے آخیر تک خرچ ہوچکے ہیں۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ ڈی ڈی سیز ، بی ڈی سیزاور پی آر آئیز کے ائیر یا ڈیولپمنٹ فنڈ سمیت مختلف سکیموں کے تحت کل 2,158 کاموں کی منظور ی دی گئی ہے ۔مزید جانکاری دی گئی کہ رواں مالی سال کے دوران 1,633کام مکمل کرنے کا ہدف ہے۔سیکرٹری ثقافت و سیاحت نے ضلع میں آر اینڈ بی ، جل شکتی ( پی ایچ اِی اور آبپاشی ) ، صحت ، بجلی ، دیہی ترقی ، سماجی بہبود ، خوراک کی فراہمی اور تعلیم کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے اَفسران اور فیلڈ عملے کو ہدایت دی کہ وہ عوامی مسائل کو جلد نمٹانے کے لئے محنت اور لگن کا اِضافہ کریں۔اُنہوں نے ہر محکمہ میں ہیلپ لائن نمبرات کو اَپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت دی تاکہ لوگ اِس سہولیت سے اِستفادہ کر سکیں کیوں کہ یہ سسٹم سیکرٹریٹ میں فعال ہے۔اُنہوں نے کووِڈ۔19ٹیکہ کاری مہم کی پیش رفت کابھی جائزہ لیا اور اُنہیں جانکاری دی گئی کہ 85فیصد لوگوں کوکووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔اُنہوں نے ایگزیکٹیو اِنجینئر پی ڈی ڈی کو ہدایت دی کہ وہ کٹائیلمنٹ پلان پر مکمل طور پر عمل کریں اور لوگوں کو پلان کے بارے میں بھی آگاہ رکھیں۔اُنہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ کو ہدایت دی کہ وہ اَفسران کے لئے سرکاری سکیموں اور مہمات بشمول’’ آپ کی زمین ،آپ کی نگرانی ‘‘،’’ ایک شخص ، ایک گولڈن کارد ‘‘کے بارے میں بیداری اور کپسٹی بلڈنگ پروگرام منعقد کریں ۔سیکرٹری موصوف نے سرمائی تیاریوں ، غذائی اجناس اور دیگر ضروری اشیاء کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا۔سیکرٹری کو جانکاری دی گئی کہ ضلع میں برف ہٹانے والی مشینیں وافر مقدار میں موجود ہیں ۔اُنہیں یہ بھی بتایا گیا کہ ضلع کے سرحدی علاقوںبشمول کرناہ ، کیرن اور مژھل میں کھانے پینے کی کافی اشیاء اور دیگر ضروری اشیاء بھیج دیا گیا ہے ۔اُنہوں نے افسران اورشراکت داروں پر زور دیا کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ سرما میں لوگوں کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اِس سے قبل وائس چیئرمین ڈی ڈی سی اور پی آر آئی ممبران نے سیکرٹری موصوف کو اَپنے اَپنے علاقوں کے مختلف مسائل گوش گزار کئے۔










