ائر ٹکٹوں اورسری نگروسیاحتی مقامات پرہوٹلوں وہائوس بوٹوں میں کمروں کی بکنگ میں تیزی
سری نگر//سال2021میں لگ بھگ ساڑھے 6لاکھ ملکی اورغیرملکی سیاحوںکی آمد کے بعدامسال سیاحوںکی آمد کاایک نیا ریکارڈ بننے کی اُمید لگائی جارہی ہے ،کیونکہ گزشتہ سال کے آخری 2مہینوں یعنی نومبر اوردسمبر 2021میں تقریباً2لاکھ45ہزار سے زیادہ سے ملک کی مختلف ریاستوں اوربیرون ممالک سے کشمیر سیروتفریح کیلئے آئے ۔محکمہ سیاحت اورسیاحتی صنعت سے وابستہ مختلف طبقوں بشمول ہوٹل وہائوس بوٹ مالکان ،ٹرانسپورٹروں وغیرہ نے بھی اپنی اپنی جانب سے تیاریاں مکمل کرلی ہیں ۔اس دوران معلوم ہواکہ ائر ٹکٹوں اورہوٹلوں وہائوس بوٹوں میں کمروں کی بکنگ میں تیزی آئی ہے ۔خیال رہے سری نگر بین الااقوامی ہوائی اڈے کے حکام نے جمعہ کو سیاحوں کی چارٹر پروازوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ہوائی اڈے پر ہیلی کاپٹروں کی نائٹ پارکنگ(شبانہ پارکنگ) کیلئے درخواست کی فیس میں 50فیصدکی کٹوتی کا اعلان کیا۔جے کے این ایس کے مطابق سات سال بعد2021کشمیرکاکامیاب ترین سیاحتی سال ثابت ہوا،کیونکہ گزشتہ برس تقریباًساڑھے6لاکھ ملکی اورغیرملکی سیاح واردکشمیر ہوئے ،اوریہاں سری نگر کے علاوہ مختلف سیاحتی مقامات بشمول گلمرگ ،پہلگام اورسونہ مرگ میں کئی کئی دن اورہفتے مقیم رہ کر قدرتی حسن وجمال اورنظاروں سے لطف اندوز ہوئے ۔محکمہ سیاحت اورسیاحتی صنعت سے وابستہ مختلف طبقوں کوپوری اُمید ہے کہ امسال بھی بڑی تعداد میں سیاح آکر کشمیرکے سیاحتی سیزن کوچارچاند لگائیں گے ۔حکام کاکہناہے کہ ائر ٹکٹوں اورسری نگروسیاحتی مقامات پرہوٹلوں وہائوس بوٹوں میں کمروں کی بکنگ میں تیزی اسبات کااشارہ ہے کہ بڑی تعدادمیں ملک کی مختلف ریاستوں بالخصوص گجرات ،راجستھان،آندھرا پردیش اورمہاراشٹرہ سے کشمیر کارُخ کریں گے ۔انہوںنے کہاکہ بیرون ریاستوں میں گرمی کی شدت میں تیزی کیساتھ اضافہ ہونے کے پیش نظر اگلے مہینے سے ہی بڑی تعدادمیں وہاںکے لوگ کشمیر آئیں گے جبکہ ملیشیاء ،تھائی لینڈ اورمتحدہ عرب امارات سے بھی بڑی تعدادمیں سیاحوںکے آنے کی اُمید ہے۔تاہم ماہ مبارک کے پیش نظر سیاحتی مقامات پرمقامی سیلانیوںکی تعدادمیں کمی آنے کاامکان ہے۔کیونکہ ماہ مبارک سے لوگ کم ہی گھروں سے نکل کرکہیں آتے جاتے ہیں ۔حکام کوتاہم پوری اُمید ہے کہ عیدالفطر کے بعدمقامی سیلانی بھی بڑی تعدادمیں سیاحتی مقامات اورنزدیکی صحت افزاء مقامات کارُخ کرنا شروع کریں گے ۔حکام اور سیاحتی صنعت سے وابستہ افرادنے بتایاکہ ائر ٹکٹوں اورسری نگروسیاحتی مقامات پرہوٹلوں وہائوس بوٹوں میں کمروں کی بکنگ میں تیزی آئی ہے ،اوراسوقت بھی ہزاروںکی تعدادمیں ملکی اورغیرملکی سیاح کشمیرمیں موجودہیں ۔محکمہ سیاحت کے ذرائع نے بتایاکہ لیفٹنٹ گورنر کی ہدایت پر، ہم نے امسال کچھ مشہور تقاریب کا اہتمام کیاہے جیسے ہاؤس بوٹ فیسٹیول، صوفی فیسٹیول ،جن میں قومی سطح کی مشہور شخصیات نے شرکت متوقع ہے۔انہوںنے کہاکہ سات سال بعد2021میں ریکارڈ تعدادمیں سیاح کشمیر آئے ،جن کی تعدادلگ بھگ ساڑھے6لاکھ تھی جبکہ امسال اسے بھی زیادہ سیاحوں کی آمدکاقوی امکان ہے ۔محکمہ سیاحت کے ذرائع نے بتایاکہ گزشتہ برس ماہ اکتوبر ،نومبر اوردسمبر میں تقریباً3لاکھ30ہزار سے زیادہ ملکی اوربیرون ملکی سیاح کشمیر آئے ۔اُدھر سیاحتی صنعت سے وابستہ مختلف طبقوں بشمول ہوٹل وہائوس بوٹ مالکان ،ٹرانسپورٹروں کیساتھ ساتھ ہینڈی کرافٹس کاکاروبار کرنے والے بھی پُراُمید ہیں کہ گزشتہ سال کی طرح رواں برس بھی سیاحتی سیزن کامیاب ثابت ہوگا۔ذرائع نے بتایاکہ محکمہ سیاحت کے ساتھ ساتھ ٹریول ٹریڈ ایسوسی ایشنز، ہوٹل مالکان نے سیاحوں کو راغب کرنے کے لئے ملک کے طول و عرض میں بڑے پیمانے پر تشہیری مہم چلائی ہے جس کے نتائج سامنے آئے ہیں۔ ہم پر اُمید ہیں کہ2021کی طرح ہی 2022بھی کشمیرکی سیاحتی صنعت کوایک نئی جلا بخشے گا۔
باغ گل لالہ :روزانہ 20ہزار کے حساب سے10دنوں میں 2لاکھ سیلانیوںکی آمد
سری نگر//زبرون پہاڑ کے دامن میں واقع وسیع العریض ’ٹیولپ گارڈن‘یعنی درجنوں اقسام کے لاکھوں رن بہ رنگے پھولوںکے مسکن باغ گل لالہ نے کشمیرمیں ایک او رکامیاب سیاحتی سیزن کی راہیں کھول دی ہیں کیونکہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران جہاں2لاکھ سے زیادہ سیاح اورمقامی سیلانی یہاں آئے اورپھولوں کانظارہ کیا۔جے کے این ایس کے مطابقحکام کاحوالہ دیتے ہوئے ایک نیوز رپورٹ میں یہ انکشاف کیاگیاہے کہ محض10دنوںمیں 2لاکھ8ہزار798لوگ بشمول سیاح وسیلانی باغ گل لالہ دیکھنے کیلئے آئے ۔حکام کو اُمید ہے کہ امسال ٹیولپ گارڈنکو دیکھنے والوں کی تعداد جلد ہی پچھلے ریکارڈ کو توڑنے والی ہے۔خیال رہے اس سال ایشیاء کے سب سے بڑے ٹیولپ باغ کو23 مارچ کو عوام کے لئے کھول دیا گیا تھا۔محکمہ پھولبانی کے حکام کہتے ہیں کہ جمعہ ہونے کے باوجود لگ بھگ 30ہزار لوگ باغ گل لالہ دیکھنے کیلئے آئے جبکہ ماہ مبارک شروع ہونے سے ایک روز قبل سنیچر کوبھی دوپہرتک ہزاروں لوگ بشمول مقامی سیلانی یہاں آئے ۔حکام نے بتایاکہ پچھلے دس دنوں میں ٹیولپ گارڈن آنے والے سیاحوں اورسیلانیوں کی تعداد 2لاکھ سے زیادہ ریکارڈکی گئی ۔محکمہ پھولبانی کے حکام نے بتایاکہ تھائی لینڈ اور ملائیشیا کے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بھی باغ گل لالہ کا دورہ کرنے کا امکان ہے جو عالمی سطح پر ایک مثبت پیغام دیتا ہے۔ ہر عمر کے لوگ سیلفیز پر کلک کرتے ہیں اور یہاں سے رنگین یادیں واپس لیتے ہیں۔نیوزرپورٹ میں سرکاری اعداد و شمار کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاگیاہے کہ، 2017 کے ٹیولپ سیزن کے دوران باغ گل لالہ میں1.50 لاکھ سیاح وسیلانی رجسٹرکئے گئے تھے،2018 میں یہ تعداد1.83 لاکھ تھی ،2019 میں یہ تعداد تقریباً2.10 لاکھ تھی۔تاہم سال2020اور2021میں کورونا کی لہر نے باغ گل لالہ کی سرگرمیوںکومتاثرکیا۔










