cigrate

سگریٹ نوشی میں وادی کشمیر مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی ملوث

سالانہ850کروڑ روپے تمباکومصنوعات کی خریداری پرخرچ کرتے ہیں

سرینگر///جموں و کشمیر سگریٹ نوشی کی آبادی کی درجہ بندی میں ہندوستان بھر میں چوتھے نمبر پر ہے جبکہ سگریٹ مصنوعات کی خریدوفروخت کے معاملے میں غالباً سرفہرست ہے۔سال 2022میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق جموں و کشمیر سگریٹ نوشی کی آبادی کی درجہ بندی میں ہندوستان بھر میں چوتھے نمبر پر ہے اور یہاں سگریٹ کی خریدوفروخت پر سالانہ850کروڑ روپے خرچ کئے جاتے ہیں ۔وائس آف انڈیا کے مطابق مرکزی وزارت صحت وخاندانی بہبود کی نگرانی میں کئے گئے آخری نیشنل فیملی ہیلتھ سروے میں یہ انکشاف کیا گیاکہ جموں ورکشمیر کے دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں مرد آبادی کا38.3فیصد اور خواتین کی3.6فیصد آبادی تمباکو کی مصنوعات کا استعمال کرتی ہے۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ کپواڑہ ضلع کی نصف سے زیادہ آبادی سگریٹ نوشی کرتی ہے۔اس سرحدی ضلع میں تقریباً 56.6 فیصد لوگ کسی بھی شکل میں تمباکو کا استعمال کرتے ہیں۔اس کے بعد شوپیاں کا نمبر آتا ہے جہاں کی 52 فیصد آبادی سگریٹ نوشی کرتی ہے یا تمباکو نوشی کی مختلف مصنوعات استعمال کرتی ہے۔ ان میں سے5 فیصد خواتین ہیں۔ضلع اننت ناگ سگریٹ نوشی میں تیسرے نمبر پر ہے جہاں49.9 فیصد آبادی سگریٹ نوشی کرتی ہے۔ضلع بڈگام کی48.8 فیصد آبادی سگریٹ نوشی کرتی ہے۔جموں و کشمیر کے 20 اضلاع میں سب سے کم تمباکو نوشی کرنے والا ضلع جموں ہے جہاں26.5آبادی سگریٹ نوش ہے، اس کے بعد کٹھوعہ (35.4 فیصد) ہے۔ سری نگر بھی سگریٹ نوشی کے معاملے میں نچلی سطح پرہے،اوریہاں کی38.4 فیصد آبادی سگریٹ نوشی کرتی ہے۔خواتین کی جانب سے سگریٹ نوشی کے معاملے میں ضلع بانڈی پورہ سرفہرست ہے ،جہاں9.1فیصدخواتین سگریٹ نوشی کی عادی ہیں۔اس کے بعد کپواڑہ میں6.8 فیصدخواتین سگریٹ نوشی کرتی ہیں۔ اس کے برعکس سال2022میں ہوئے سروے کے مطابق جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر اور سرمائی دارالحکومت جموں میں سگریٹ نوشی کی عادی خواتین کی شرح بالترتیب 1.9 فیصد اور 0.8 فیصد تھی۔2010 میں، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ) نے کہا کہ دنیا کی 22.3 فیصد آبادی تمباکو کا استعمال کرتی ہے، جن میں 36.7 فیصد مرد اور 7.8 فیصد خواتین تھیں۔ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں جہاں زیادہ تر تمباکو استعمال کرنے والے موجود ہیں، لوگ تمباکو سے متعلقہ بیماری کا زیادہ شکار ہیں، اور موت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ یہ غربت میں بھی حصہ ڈالتا ہے کیونکہ لوگ اپنی آمدنی کا زیادہ تر حصہ تمباکو سے متعلقہ مصنوعات پر خرچ کرتے ہیں۔ایک اور سروے میں کہاگیاکہ جموں وکشمیر میں21 فیصدبالغ افراد تمباکومصنوعات کا استعمال کرتے ہیں۔گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے 2020 (GATS-2) کے اعداد و شمار کے مطابق یہ سامنے آیا ہے کہ جموں و کشمیر میں39.7 فیصد مرد اور 6.2 فیصد خواتین اور 23.7 فیصد بالغ افراد یا تو تمباکو نوشی کرتے ہیں۔نیشنل ہیلتھ اینڈ فیملی سروے5 کے اعداد و شمار تقریباً ایک تہائی 32فیصد مردسگریٹ نوشی کرتے ہیں، لیکن صرف ایک فیصد خواتین، جن کی عمریں15سے49 سال ہیں، تمباکو کی کسی نہ کسی شکل کا استعمال کرتی ہیں۔محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیداروں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں تمباکو کے استعمال کی فیصد کو کم کرنے کے لئے بہت سے اقدامات کئے گئے ہیں۔حکام کہتے ہیںکہ ہم نے لوگوں تک پہنچنے اور ان کی صحت پر مضر اثرات سے آگاہ کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔انھوں نے کہا کہ تمباکو اور سگریٹ نوشی کے مجموعی استعمال میں کمی آئی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز کشمیر کے مطابق سال 2022-23 کے دوران کم از کم6624 تمباکو استعمال کرنے والوں نے کونسلنگ حاصل کی اس کے علاوہ 2109 صارفین نے کونسلنگ اور فارماکو تھراپی حاصل کی جبکہ147 افراد نے تمباکو کا استعمال چھوڑ دیا۔حکام نے گزشتہ برس کہاتھا کہ گزشتہ چار سالوں میں ہزاروں تمباکونوشی کے عادی افراد کی کونسلنگ کی گئی اور سینکڑوں نے تمباکو کا استعمال چھوڑ دیا ہے،اور ساتھ ہی حکام نے کہاکہ سال2022-23 میں تقریباً 8000 چالان پیش کیے گئے اور COTPAکی خلاف ورزی کرنے والوں سے تقریباً3 لاکھ روپے بطور جرمانے کے وصول کیے گئے۔قابل ذکر ہے کہ نوجوان نسل اورنوعمر لڑکوں لڑکیوںمیں سگریٹ نوشی کی لت کے معاملے میں جہاں اروناچل پردیش اور میزورم سرفہرست ہیں ،وہیں اس معاملے میں جموں وکشمیر 12ویں نمبر پر ہے جبکہ نوجوان نسل میں سب سے سگریٹ نوشی کے معاملے میں ہماچل پردیش اورکرناٹک نچی سطح پر ہیں۔سروے رپورٹ 2021-22میں کہاگیاہے کہ ہندوستان میں تمباکو استعمال کرنے والوں کی تعداد 267 ملین ہے، جو اسے دنیا میں تمباکو استعمال کرنے والوں کی چین کے بعد دوسری سب سے بڑی تعداد والا ملک بناتا ہے۔بھارت میں تقریباً 100 ملین افراد جن کی عمریں 15 سال یا اس سے زیادہ ہیں اس وقت تمباکو (سگریٹ اور بیڑیاں) پیتے ہیں۔تقریباً200 ملین افراد جن کی عمریں 15 سال اور اس سے زیادہ ہیں وہ بغیر دھوئیں کے تمباکو کا استعمال کرتے ہیں۔جہاں تک بھارت میں تمباکو کی پیداوار اور تنوع کاتعلق ہے توتمباکو کا ایک بڑا صارف ہونے کے علاوہ، ہندوستان 761,335 ٹن پیدا کرنے والا دنیا میں تمباکو کا دوسرا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے، جس میں تمباکو کی زیادہ تر پیداوار 3 ریاستوں میں مرکوز ہے اور پیداواری ویلیو چین میں تقریباً 25 ملین کو روزگار فراہم کرتا ہے۔جہاں تک سگریٹ نوشی سے ہونے والی اموات اور عام آدمی کی معشیت پر پڑنے والے بوجھ کاتعلق ہے تو بھارت میںتمباکو سے1.2 ملین سے زیادہ اموات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔دنیا بھر میں پھیلنے والے بیماریوں کا تقریباً تین چوتھائی حصہ ہندوستان میں ہے جس کی وجہ بغیر دھوئیں کے تمباکو ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سالانہ 3لاکھ50ہزار سے زیادہ اموات بغیر دھوئیں کے تمباکو کے استعمال سے ہوتی ہیں۔تمباکو کے استعمال کی مختلف شکلیں 2020 میں ہندوستان میں ہونے والے تمام کینسروں میں سے 27فیصد کے لیے ذمہ دار ہیں۔سال2020میں جاری کردہ ایک سروے رپورٹ میں کہاگیاہے کہ تمباکو کافی معاشی بوجھ کا باعث بنتا ہے۔ ہندوستان میں 2018-19میں35 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے تمام بیماریوں اور اموات کی وجہ سے کل اقتصادی لاگت 27.5 بلین امریکی ڈالر تھی۔ تمباکو نوشی نے74 فیصد حصہ ڈالا اورSLT کے استعمال نے اخراجات میں 26 فیصد حصہ ڈالا۔