سکینہ اِیتو کا جموں میں جسمانی طور خاص اَفراد کے عالمی دِن 2024 کی تقریب سے خطاب

ہمارے معاشرے میں مختلف صلاحیتوں کے حامل اَفراد کا سپورٹ اور ان کے مستقبل کی تشکیل کیلئے وقت کی ضرورت ہے۔ وزیر سکینہ اِیتو

جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم ، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے آج جسمانی طور خاص اَفراد کے لئے رَسائی اور مساوی مواقع کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان کے لئے ایک جامع معاشرہ تشکیل دیا جاسکے۔ اِن باتوں کا اِظہار وزیر موصوفہ نے جسمانی طور خاص اَفراد کے عالمی دِن 2024 کی مناسبت سے یہاں کنونشن سینٹر میں سماگراہ شکھشا جموں وکشمیر کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اِس موقعہ پرپرنسپل سیکرٹری سکولی تعلیم سریش کمار گپتا، کمشنرسیکرٹری سوشل ویلفیئر شیتل نندا، پروجیکٹ ڈائریکٹر سماگراہ شکھشا، ڈائریکٹر سکولی تعلیم جموں، ڈائریکٹر سماجی بہبود جموں، مختلف کالجوں اور تعلیمی اداروں کے پرنسپل، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ سکولی تعلیم اور سماگراہ شکھشاکے سینئر افسران، ریسورس پرسن اور طلبأ کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔محترمہ سکینہ اِیتو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسمانی طور خاص اَفراد کی طاقت کا اعتراف کیا جو روزبروز چیلنجوںپر قابو پانے میں غیر معمولی ہمت اور جرأت کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔اُنہوں نے ہمارے معاشرے میں جسمانی طور خاص اَفراد کے مستقبل کی تشکیل کے لئے ان کا سپورٹ اور شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے کہا ،’’ ہمیں جسمانی طور خاص اَفراد کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ انہیں تعلیم، صحت نگہداشت، روزگار اور عوامی مقامات تک بہتر رَسائی حاصل ہو۔ ہماری طرح اُنہیں بھی عزت و وقار اور مواقع کی زندگی گزارنے کا حق ہے۔‘‘وزیر موصوفہ نے اِس سال جسمانی طور خاص اَفراد کے عالمی دن کے موضوع’’ایک جامع اور دیرپا مستقبل کے لئے معذور افراد کی قیادت کو بڑھانا‘‘ پر اِظہار خیال کرتے ہوئے ایک ’’ معذوروں پر مشتمل سوسائٹی ‘‘کے قیام پر زور دیا جہاں ہر شخص اپنی جسمانی یا فکری حدود سے قطع نظر باوقار زندگی گزار سکے۔ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معذوریوں سے متعلق معاشرتی دقیانوسی تصورات اور تعصبات کو توڑنا ایک جامع ثقافت کی تشکیل کے لئے ضروری ہے۔اِس موقعہ پر محترمہ سکینہ اِیتو نے مختلف صلاحیتوں کے حامل طلبأاور بچوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آج پرفارمنس پیش کرتے ہوئے طلبأ نے جو ٹیلنٹ کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ ذِکر ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ بچوں نے یہ ظاہر کیا کہ ان میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے بلکہ وہ منفرد ٹیلنٹ رکھتے ہیں جس کا احترام اور پرداخت کرنے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے معذور افراد کی نگہداشت کرنے والوں، والدین اور کنبوںکے کردار کو سراہا جو اکثر مدد اور دیکھ بھال کے بنیادی ذریعہ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا، ’’معذور اَفراد کو بااِختیار بنانے کے لئے آپ کی لگن اور محبت ضروری ہے۔‘‘سکینہ ایتو نے مزید کہا کہ حکومت جسمانی طور خاص اَفراد کے ہر مسئلے کو حل کرنے کے لئے پُرعزم ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ این جی اوز کا بھی کردار ہے اور انہیں زمینی سطح پر زیادہ فعال ہونے اور حکومت کی طرف سے فراہم کردہ گرانٹ ان ایڈ کو مؤثر طریقے سے اِستعمال کرنے کی ضرورت ہے۔پرنسپل سیکرٹری سکولی تعلیم نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کی ضرورت ہے جہاں جسمانی طور خاص اَفراد معاشرے کے تانے بانے میں پوری طرح ضم ہوجائیںاور وہ اپنے ساتھیوں کے شانہ بشانہ رہ سکیں، کام کرسکیں اور ترقی کرسکیں۔ اُنہوں نے اس موقعہ پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر جسمانی طورخاص طلبا ٔ کو سراہا۔کمشنر سیکرٹری سماجی بہبود نے اَپنے خطاب میں کہا کہ معذور طلبأ میں کسی ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے اور آج انہیُں موقعہ دے کر انہوں نے اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معذور افراد کے لئے جامع تعلیم کا تصور ان طلبأ کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک قابل ذکر قدم ہے۔پروجیکٹ ڈائریکٹر سماگرا ہ شکھشا اپنے اِستقبالیہ خطاب میں کہا کہ یہ دِن عالمی سطح پر ہر ہر برس 3 ؍دسمبر کو منایا جاتا ہے اور یہ دن زندگی کے تمام پہلوؤں میں معذور افراد کی مکمل شرکت کو یقینی بنانے کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے۔ اُنہوں نے معذور طلبأکی فلاح و بہبود کے لئے سماگراہ شکھشا کے مختلف اقدامات پر بھی تفصیلی پرزنٹیشن دی۔اِس موقعہ پر وزیر موصوفہ نے حال ہی میں اڑیسہ میں منعقدہ انجلی اِنٹرنیشنل فیسٹول کے دوران جموں و کشمیر کا نام روشن کرنے والے متعدد طلبأ کو بھی اعزاز سے نوازا۔ اُنہوں نے کھیلوں کے ساتھ ساتھ ماہرین تعلیم کے مختلف زمروں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبأ میں میڈل اور ٹرافیاں بھی تقسیم کیں۔تقریب کے دوران مختلف صلاحیتوں کے حامل طلبأ نے شاندار ثقافتی پرفارمنس پیش کی جس سے سامعین محظوظ ہوئے۔اِس سے قبل محترمہ سکینہ اِیتو نے محکمہ سماجی بہبود کے معذور مستحقین میں موٹر ائزڈ ٹرائی سائیکلیں اور سکوٹیاں بھی تقسیم کیں۔