Sakeena Itoo inaugurates, addresses Kashmir University’s Annual Youth Festival-‘Sonzal

سکینہ اِیتو نے کشمیر یونیورسٹی کے سالانہ یوتھ فیسٹول ’ سونزل ‘ کا اِفتتاح کیا او رخطاب کیا

کہا ہمیں اَپنے روشن مستقبل کیلئے اَپنی مادری زبان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے

سری نگر// وزیربرائے صحت و طبی تعلیم ، سماجی بہبود اور تعلیم محترمہ سکینہ اِیتو نے کشمیری ثقافت اور زبان کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے روشن مستقبل کے لئے اپنی مادری زبان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے اِن باتوں کا اِظہار آج یہاں یونیورسٹی کے کانووکیشن کمپلیکس میں کشمیر یونیورسٹی کے سالانہ یوتھ فیسٹول’’ سونزل‘‘ کا اِفتتاح کرنے کے بعد کیا۔ سات روزہ فیسٹول کا اِنعقاد یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبہ سٹوڈنٹس ویلفیئر کے شعبہ یوتھ افیئرز نے کیا ہے ۔ سکینہ اِیتو نے پروفیسروں، ڈینز، سربراہان، ریسرچ سکالروںاورطلاب کے بڑے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جدید اثرات کے پیش نظر کشمیری زبان اور روایات کے تحفظ کی وکالت کیا۔اُنہوں نے کہا،’’ہماری کشمیری ثقافت اور زبان بہت منفرد ہے، ہم سب کو اَپنی ثقافت اور ورثے پر بہت فخر کرنے اور اس کی زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کی ضرورت ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’ زبان ہماری ثقافت کی بنیاد ہے۔ اس کے بغیر، ہم ان داستانوں، کہانیوں اور رسم و رواج سے رابطہ کھو دیتے ہیں جنہوں نے صدیوں سے ہماری تعریف کی ہے۔ میں یہاں کے پروفیسروں اور طالب علموں پر زور دیتی ہوں کہ وہ نہ صرف ہماری کشمیری زبان اور ثقافت کی خوبصورتی کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ یہ تعلیمی جگہوںسے آگے بڑھے۔‘‘وزیر موصوفہ نے طلباء کمیونٹی پرزور دیا کہ ہماری ثقافت کی حفاظت اور فروغ آپ کی ذمہ داری ہے جبکہ آج ہمیں متاثر کرنے والے مسائل کو حل کرنے کے لئے علم کی طاقت کو بھی اِستعمال کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی نے آپ کو علم اور حکمت فراہم کی ہے، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ایک ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہمارا ورثہ اور ہماری ترقی دونوں ساتھ ساتھ چلیں۔اُنہوںنے کشمیر یونیورسٹی کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کشمیر کے علم اور سماجی ترقی کا مینار ہے اور یونیورسٹی نے پروفیسروں، سکالروں، محققین پیدا کئے ہیں جو تعلیم، حکمرانی ، ٹیکنالوجی جیسے مختلف شعبوں اور ہمارے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے نمایاں طور پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔سکینہ اِیتو نے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی نہ صرف علمی تعلیم کی جگہ ہے بلکہ سماجی تبدیلی اور فکری ترقی کا مرکز بھی ہے۔ اس نے ایسے اَفراد پیدا کئے ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرے کی ترقی اور دُنیا بھر میں ہمارے ثقافتی ورثے کے تحفظ میں بے پناہ رول اَدا کیا ہے۔اُنہوں نے اس یوتھ فیسٹول کے اِنعقاد کے لئے یونیورسٹی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ’’ سونزل‘‘ کشمیری زبان کو فروغ دینے اور محفوظ کرنے کے لئے ایک بہت ہی منفرد پلیٹ فارم ہے جو ہمارے ثقافتی ورثے کا لازمی حصہ ہے۔ اُنہوںنے کہا کہ’’ سونزل ‘‘ جیسے ثقافتی اَقدامات تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے، روایات کے تحفظ اور نوجوانوں کو بااِختیار بنانے کے لئے یونیورسٹی کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔اِس موقعہ پروائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان نے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیتوں، اتحاد اور تجسس کو فروغ دینے میںفیسٹول کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔اُنہوں نے کہا، ’’ہماری یونیورسٹی مختلف طریقوں سے طلباء کی صلاحیتوںکوپروان چڑھانے کے لئے سونزل جیسے پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔‘‘ اُنہوں نے یونیورسٹی کی کامیابیوں کا خاکہ بھی پیش کیا ۔ ڈین اکیڈمک افیئرزکشمیر یونیورسٹی پروفیسر شریف الدین پیرزادہ نے تعلیم کے حوالے سے یونیورسٹی کے جامع نقطہ نظر پر زور دیا جبکہ رجسٹرار کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نصیر اقبال نے اس تقریب کو ثقافتی صلاحیتوں کا فیسٹول قرار دیا۔اِس سے قبل ڈین سٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر شمیم احمد شاہ نے اَپنے اِستقبالیہ خطاب میں کہا کہ فیسٹول کا مقصد سماجی ہم آہنگی، ثقافتی افہام و تفہیم اور فنکارانہ تبادلے کو فروغ دینا ہے۔افتتاحی تقریب میں ڈی ایس ڈبلیو کلچرل گروپ کی جانب سے یونیورسٹی ترانہ کی لائیوفارمنس،سالانہ سٹوڈنٹ میگزین ’’ گلالہ ‘‘ کا اجرأ اور طلبأ ثقافتی گروپوں کی جانب سے لائیو ثقافتی پرفارمنس پیش کی گئی۔اِس 12سے 20؍ دسمبر تک جاری رہنے والے فیسٹول میں کشمیر بھر کے مختلف کالجوں او ریونیورسٹیوں کے طلبأ اگلے سات دِنوں کے دوران کوئز، مباحثہ ، تقریر ، کولاج میکنگ ، پوسٹر سازی ، مصوری ، کارٹون سازی ، کلے ماڈلنگ اور دیگر زُمروں میں اَپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔