سری نگر// نیشنل جوڈیشل اکیڈیمی بھوپال کے زیر اہتمام اور جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ اور جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی کے اشتراک سے عدالتی دستاویزات کے موضوع پر دو روزہ نارتھ زون ۔I علاقائی کانفرنس آج ایس کے آئی سی سی سری نگر میں اِختتام پذیر ہوئی۔دو روزہ نارتھ زون ریجنل کانفرنس کے دوسرے ۔I دوتکنیکی سیشن منعقد ہوئے ۔دِن کے پہلے تکنیکی سیشن میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے جج جسٹس راجیش بندل کے ساتھ کیرالہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس اے محمد مشتاق سیشن کے ریسورس پرسنوں نے اِی۔ کورٹس پروجیکٹ پر تبادلہ خیال کیا اور ڈیجیٹل کی حکمت عملیوں پر زور دیا۔جج جسٹس راجیش بندل نے اِس بات پر روشنی ڈالی کہ ناکافی آلات اور بنیادی ڈھانچہ مستقل مسائل ہیں جو تمام عدالتی شراکت داروں بشمول ججوں، وکلأ اور مدعیان کو متاثر کرتے ہیں۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ تین بنیادی شراکت دار۔ ججوں، وکلأ اور قانونی چارہ جوئی کے لئے مضبوط اندرونی قواعد و ضوابط پر غور کرنا ضروری ہے۔ اسے آلات اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے تک غیر مساوی رَسائی، بینڈوتھ اور کنکٹویٹی سے متعلق مسائل اور ٹیکنالوجی کے ساتھ مہارت اور واقفیت کی مختلف سطحوں کو حل کرنا چاہیے تاکہ اِنصاف کی فراہمی اِصطلاح کے حقیقی معنوں میں مساوی ہو۔جسٹس اے محمد مشتاق نے پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کے ذریعے ڈیجیٹل تقسیم اور اِی۔ سروسز کے رول پر بات کی۔ اُنہوں نے اِنصاف کی فراہمی کے مضبوط نظام کے لئے ٹیکنالوجی سے فائدہ اُٹھانے میں شمولیت اور رَسائی کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ عدالتی عمل کے ساتھ ٹیکنالوجی کے امتزاج سے اِنصاف کے سفر میں کارکردگی، صلاحیت، رَسائی اور شفافیت میں اِضافہ ہوگا۔ڈیجیٹل عدالتیں مقدمات کے بیک لاگ کو تیز کر سکتی ہیں جس سے قانونی نظام پر عوام کے اعتماد کو تقویت ملتی ہے۔جسٹس اے محمد مشتاق نے ڈیجیٹل رَسائی کے چار اصولوں یعنی قابل دید، قابل عمل، قابل فہم اور مضبوط پر بھی روشنی ڈالی۔ سپریم کورٹ آف اِنڈیا کے جج جسٹس این کوٹیشور سنگھ نے دِن کے دوسرے تکنیکی سیشن کی صدارت کی۔ کیرالہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس اے محمدمشتاق اور مدراس ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایم سندر سیشن کے ریسورس پرسن تھے۔جسٹس این کوٹیشور سنگھ نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ کیس مینجمنٹ فضول بیک لاگ کو روکنے ، فوری اِنصاف فراہم کرنے ، زیادہ پُرعزم کوششوںکے ساتھ بیک لاگس سے نمٹنے اور ججوں ، وکلأ ، قانونی چارہ جوئی اور اِنتظامی افسران کے مابین مشترکہ منصوبے کا ماحول پیدا کرنے کی فوری ضرورت فراہم کرتی ہے۔ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ججوں کو شیڈول پر عمل کرتے ہوئے مقدمے سے باخبر رہنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ عمل کی خدمت اور تحریری بیانات داخل کرنے کے لئے کوئی غیر معقول وقت ضائع نہ ہونے دیا جائے۔جسٹس سندر نے اِختتامی سیشن میں عدالتی فیصلہ سازی میں آرٹیفیشل اِنٹلی جنس (اے آئی) کے رول پر تبادلہ خیال کیا۔ اُنہوں نے وضاحت کی کہ اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں جیسے آرٹیفیشل اِنٹلی جنس اور بلاک چین ، عدالتی عمل میں انقلاب برپا کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ان پیش رفتوں کو اَپنا کر عدلیہ مستقبل کی اِختراعات کی بنیاد رکھ کر حکمرانی، سیکورٹی اور کارکردگی کو مضبوط بناسکتی ہے۔جسٹس اے مشتاق احمدنے پاورپوائنٹ پرزنٹیشن کے ذریعے شفافیت اور مؤثر اِنصاف کی فراہمی کے نظام کو یقینی بنانے کے لئے کیرالہ ہائی کورٹ میں کامیابی سے شروع کی گئی او این کورٹ پورٹل سروس کی وضاحت کی۔ اُنہوں نے ڈیجیٹل عدالتوں کا تصور بھی متعارف کیا جو ایک ایسا نظام تشکیل دیتا ہے جس میں عدالتی اور اِنتظامی عمل کو آسان بنایا جاتا ہے۔جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی کی ڈائرکٹر سونیا گپتا نے کانفرنس کے دوسرے دن کے تمام تکنیکی سیشنوں کا موازنہ کیا۔تمام سیشن بہت ہی اِستفساری رہے جس میں تمام شرکأ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اَپنے تجربات اور مشکلات کا اِشتراک کیا اور موضوع کے مختلف پہلوئوں پر بھی گفتگو کی ۔اُنہوں نے متعدد سوالات بھی اُٹھائے جن کا قابل ریسوس برسنوں نے تسلی اور اطمینان بخش جوابات دئیے۔










