سرینگر میں بے خانگی کا بڑھتا ہوا بحران، خانہ بدوشوں اور شہریوں کی زندگی وبال جان

سرینگر//جموں و کشمیر میں بے خانگی کا مسئلہ روز بروز سنگین ہوتا جا رہا ہے، خاص طور پر خانہ بدوش خاندانوں اور شہری آبادی کے لیے جو رہائش کی کمی اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگرچہ بے گھر افراد کی صحیح تعداد کا کوئی مکمل ڈیٹا دستیاب نہیں، تاہم اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ غربت اور غیر مناسب رہائش کی کمی کے باعث بے گھری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق بے خانگی کی شرح میں 44.32 فیصد اضافہ ہوا، جو اس مسئلے کی شدت کو واضح کرتا ہے۔وی او آئی کے مطابق شوپیاں، کولگام، بانڈی پورہ، ریاسی اور ادھم پور جیسے دیہی اضلاع میں غربت نے بے گھری کے مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ سرینگر اور جموں جیسے شہری علاقوں میں بھی یہ صورت حال پیچیدہ ہو چکی ہے۔ یہاں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور مہنگائی کی وجہ سے کئی خاندان ایک ہی مکان میں رہنے پر مجبور ہیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل بڑھ رہے ہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ کئی خاندان ایک ہی کمرے میں تین یا چار مختلف خاندانوں کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جس کا اثر ان کی ذاتی زندگی، تعلیم، اور ترقی پر پڑ رہا ہے۔گجروں اور بکروالوں جیسے خانہ بدوش خاندان جو ماضی میں عارضی پناہ گاہوں میں رہتے تھے، اب ماحولیاتی تبدیلیوں اور اقتصادی مشکلات کی وجہ سے کشمیر میں مستقل طور پر رہنے پر مجبور ہیں۔ ان خاندانوں کے پاس زمین اور وسائل کی کمی ہے، جس کی وجہ سے وہ عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جو سردیوں میں ان کی حفاظت نہیں کر پاتیں۔بے۔حکومت نے خانگی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے ہیں، جیسے وزیراعظم آواس یوجنا، مگر ابھی تک ان منصوبوں کا اثر کم محسوس ہو رہا ہے۔ سماجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زمین اور رہائش کے مسائل کو نظر انداز کرنا اس بحران کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بے خانہ افراد کو مستقل رہائش فراہم کرنا ایک تاریخی قدم ہوگا جو غریب عوام کی زندگیوں میں بہتری لا سکتا ہے۔ جموں و کشمیر میں بے خانگی کے مسئلے کا فوری اور مؤثر حل ضروری ہے تاکہ خانہ بدوشوں اور شہریوں کے لیے پائیدار رہائش کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس سے نہ صرف ان کے حقوق کا تحفظ ہوگا، بلکہ علاقے کی معیشت اور ثقافت بھی محفوظ رہ سکے گی۔