Shia Muslims 8th Muharram procession through Lal chowk towards Dalgate

سرینگر میں آٹھویں محرم کاروایتی جلوس گروبازار سے برآمد

مسلسل تیسرے سال کثیر تعداد میں عزاداروں کی شرکت

سرینگر 04 //آٹھویں محرم الحرام کی مناسبت سے وادی بھر میں تعزیہ اور ماتمی جلوس برآمد ہوئے ہیں، جن میں شہر سرینگر کے گورو بازار سے سب سے بڑا جلوس عزا برآمد ہوا جو کہ بعد میں ڈلگیٹ میں پرْ امن اختتام پذیر ہوا۔ گذشتہ چند برسوں کی طرح امسال بھی ایل جی انتظامیہ کی جانب سے آٹھویں محرم کے اس ماتمی جلوس کو نکالنے کی اجازت دی گئی۔اس جلوس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے صبح سویرے سے ہی شرکت کی ہے ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق منعقدجلوس میں سینکڑوں کی تعداد میں عزاداروں نے شرکت کی اور اس دوران جلوس میں سوگواروں نے غم حسینی میں ماتم ، گریہ زاری اور سینیا کوبی کی۔ وہیں شرکاء نے نوحہ خوانی کر کے امام حسینؑ اور دیگر شہدائے کربلا کو یاد کیا۔اس موقع پر عزاداروں نے کہا کہ ہم امام حسینؑ کے پیغام کو آگے لے جاتے ہیں۔جو ہمیشہ انصاف اور مظلوموں کے لیے کھڑے رہیں۔آٹھویں محرم کو صرف شعیہ آبادی والے علاقوں میں ہی ذو الجناح اور ماتمی جلوس کی اجازت دی جاتی تھی۔ ایسے میں سال2023میں تین دہائی سے زائد عرصے کے بعد 8اور 10 محرم الحرام کے ماتمی جلوسوں پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو کہ اب چند برسوں سے دوبارہ اپنے رواریتی روٹز سے برآمد ہورہے ہیںاس موقعے پر شرکاء نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں نے میدان کربلا میں اسلام کی بقاء￿ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ایسی مثال قائم کی جس نے رہتی دنیا تک حق و باطل کا معیار طے کر دیا اور کربلا ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ مظلوم کا ساتھ دیا جائے اور اگر ہم آج کے دن بھی یہ سبق حاصل نہیں کریں گے تو یہ مجالس پھر بے معنی ہیں۔ اس بڑے ماتمی جلوس کے پرامن انعقاد کیلئے پولیس اور ضلع انتطامیہ سرینگر کی جانب سے سکیورٹی کے معقول انتظامات کیے گئے جبکہ ٹریفک ایڈوائزی بھی جاری کی گئی۔اس موقعے پر بی جے پی کے سنئیر رہنما اعجاز احمد نے آٹھویں محرم کے پر امن انعقاد کے لئے ایل جی، ضلع اور پولیس انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امید ہے کہ یوم عاشورہ 10 محرم الحرام کا جلوس اسی طرح احسن طریقے سے انجام پائے گا۔ انہوں نے اس وقت نہ صرف شعبہ برداری کے لوگ عزاداروں کو پانی اور مشروبات تقسیم کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں بلکہ سنی براداری بھی اپنا بھر پور تعاون پیش کررہے ہیں جو کہ سنی شیعہ اتحاد اور آپسی بھائی چارے کی صدیوں پرانی روایت کی عکاسی کرتا ہے۔