سرینگر// سرحدی علاقہ کیرن میں موبائیل نیٹ ورک کی عدم دستیابی کے نتیجے میں صارفین خاص طور پر طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ سی این آئی نمائندے نے اس ضمن میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ سرحدی ضلع کپوارہ کے کیرن علاقے میں اگرچہ صارفین کو راحت دینے کیلئے موبائیل ٹاور نصب کیا گیا تاہم ٹاور نصب ہونے کا فائدہ نہ ملنے پر صارفین خاص طور پر طلبہ میں شدید غم و غصہ کی لہر پائی جا رہی ہے ۔ صارفین کا کہنا تھا کہ ٹاور ہونے کے باوجود بھی نیٹ ورک نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث کہیںبھی کال نہیںلگ جاتی ہے اور نہ ہی انٹر نیٹ کی سپیڈ رہتی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ یہاں کے طالب علم آ ن لائن پڑھائی نہیں کر سکتے ہے اور نہ ہی ان پڑھے لکھے نوجوان کو پتہ چلتا ہے کہ سرکار کی طرف سے کون سی نوٹیفکیشن جاری ہوتی ہے تاکہ یہاں کے پڑھے لکھے نوجوان بھی سرکاری نوکریوں میں حصہ لینے سے رہ جاتے ہیں۔ اسکے علاؤہ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ علاقہ ضلع ہیڈ کواٹر سے کٹ کے رہ جاتا ہے اور اس علاقے کے عوام کو دنیا کا کوء پتہ نہیں ہوتا ہے ۔ انہوںنے لیفٹنٹ گورنر اور ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس علاقے میں اور موبائیل ٹاور نصب کیے جائے تاکہ یہاں کے لوگ بھی اس سے فایدہ اٹھا سکے ۔ ادھر ڈپٹی کمشنر کپوارہ امام الدین نے بتایا کہ اس علاقے میں ایک نجی کمپنی نے ٹاور لگایا ہے اور بھی کمپنیاں اس علاقے میں ٹاور لگائیں گی اور امید ہے کہ جلد سے جلد اس علاقے میں موبائل کا نیٹ ورک ہر گاوں میں ہوگا اور انٹر نٹ بھی چالو کیا جائے گا ۔










