5000 kangaris are prepared on a daily basis in Okay Kulgam

سخت سردی سے بچائو رواتی کانگڑی کا استعمال

گرم ملبوسات و جدید آلات کے باوجود کانگڑی کی اہمیت برقرار

سرینگر//وادی کشمیر میں سردی میں اضافہ ہوتے ہی روایتی کانگڑی کی مانگ بڑھنے لگی ہے۔ وادی کشمیر میں لوگ سردی سے بچنے کے لئے کانگڑی کا استعمال کرتے ہیں۔ کانگڑی کو ‘پورٹیبل ہیٹر’ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ آپ اسے اپنے ساتھ کہیں بھی لے جاسکتے ہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں لوگ شدید ٹھنڈ سے بچنے کے لیے صدیوں سے کانگڑی کا استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ کانگڑی بنانے والوں کو ‘کانْیول’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جنوبی ضلع کولگام کے گنڈپورہ دیوسر علاقے میں کئی افراد کانگڑی بنانے کے پیشہ سے وابستہ ہیں، جن میں عبد ا رحمان پچھلے 45 برسوں سے کانگڑی سازی سے وابستہ ہیں۔انہوں نے وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وادی کے لوگ کانگڑی کا استعمال صدیوں سے کرتے آرہے ہیں اور دور جدید میں بھی اس کی اہمیت برقرار ہے۔انہوں نے کہا کہ برسوں وہ اسی پیشہ سے وابستہ ہیں۔ چرار شریف کی کانگڑی اپنی بناوٹ اور کاریگری کے اعتبار سے کافی مشہور ہے جو ان جیسے افراد بناتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ محتلف قسم کی کانگڑیاں بناکر فروخت کرتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی کانگڑی کی اہمیت برقرار ہے۔ایک اور کانگڑی ساز بشیر احمد کمارنے کہا کہ وہ بھی اس کام سے کئی برسوں سے جڑے ہیں۔ تاہم اب ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے جس کی وجہ سے اس کام سے ان کا گزر بسر مشکل سے ہوتا ہے۔ وادی کشمیر میں بچے، بوڑھے، عورتیں سردی سے بچنے کے لئے اسی کانگڑی کا سہارا لیتے ہیں۔ یہاں کے لوگ کانگڑی کو فرن کے نیچے بڑی آسانی سے اپنے ساتھ لیکر چلتے پھرتے ہیں۔ کانگڑی کے اندر مٹی کا ایک برتن ہوتا ہے جسے ‘کنڈل’ کہتے ہیں جس میں کوئلہ ڈالا جاتا ہے۔