زمینوں کی سینچائی کیلئے پانی دستیاب نہ ہونے کی صورت میںکھیتی باڑی بُری طرح متاثر

سرینگر / /جموں وکشمیر میں لوگوں نے ایک مخصوص سیزن کے دوران بڑی مشکل کھیتی باڑی کا کام ہاتھ میں لیا تھا کیونکہ ایک طرف کوروناوائرس کی مہاماری تھی اور دوسری طرف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے زمینوں کی سینچائی ناممکن بنی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں زمینداروں کی نیندیں حرام ہوئی ہیں ۔اس ضمن میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے زمینداروں نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ کھیت کھلیانوں میں پینری ،ترکاریاں اور سبزیاں لگائی گئی ہیں لیکن پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ اپنی زمینوں کی سینچائی کرنے سے قاصر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب پانی کی عدم دستیابی کے باعث ان کی فصلیں سوکھ رہی ہیں۔ انہوں نے محکمہ اری گیشن وفلڈ کنٹرو ل کے متعلقہ افسران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ان کی لاپرواہی اور غفلت شعاری کی وجہ سے پانی کی تر سیل متواتر طور نہیں ہو پاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جس مقصد کیلئے محکمہ ہذا کو قائم کیا گیا تھا وہ مقصد ہی فوت ہوچکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں بیشتر علاقوں میں سربند اور آبی ذخائر ہیں لیکن محکمہ کی عدم توجہی سے ان کا پانی زمینوں تک پہنچانے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھائے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہاں کوہلوں وندی نالوں کی صفائی ،باندھوں کی تعمیر اور پمپ شیڈ وں کی تنصیب کو تیار کرنے پر اربوں روپے کے رقومات صرف کرنے کے دعوے کئے جارہے ہیں ۔لیکن یہ دعوے اس وقت سراب ثابت ہوتے ہیں جب یہاں کی کوہلوں وندی نالوں میں صفائی نہ کرنے کی وجہ سے گندی کے ڈھیر جمع ہیں اور باندھوں کی تعمیرمیں ناقص میٹرئیل کا استعمال اور نصب شدہ پمپ شیڈ و دیگر پروجیکٹ بے کار پڑے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سالانہ بنیادوں پر محکمہ ہذا اری گیشن کو مستحکم بنانے کیلئے اربوں روپے خرچ کرتاہے لیکن ہرسال کی طرح امسال بھی زمیندار زمینوں کی سینچائی کرنے کیلئے ترس رہے ہیں کیونکہ پمپ شیڈ بے کار ہیں کوہلیں اور ندی نالے خشک پڑی ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں پانی دستیاب نہیں ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیزن کے تئیں توجہ مرکوز کرکے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے جنگی پیمانے پر اقدامات اٹھائے جائیں اور متعلقہ محکمہ کو جوابدہ بنانے اور مختلف پروجیکٹو ں پر صرف ہوئے رقومات کی تحقیقات عمل میں لانے کیلئے ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ زمینداروں کو ہر سال پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور خزانہ عامرہ بھی لوٹ کھسوٹ سے بچ جائے ۔