راجوری میں تین بچوں سمیت کنبہ کے 4افراد زہر آلود کھانا کھانے کے بعد لقمہ اجل

راجوری میں تین بچوں سمیت کنبہ کے 4افراد زہر آلود کھانا کھانے کے بعد لقمہ اجل

سانحہ پر وزیر اعلیٰ ،نائب وزیر اعلیٰ ،ڈاکٹر فاروق ، محبوبہ مفتی اور طارق قرہ سمیت متعدد شخصیات کااظہار دکھ

سرینگر///راجوری میں تین کمسن بچوں سمیت ایک ہی گھر کے چار افراد مبینہ طور پر زہریلا کھانا کھانے کے بعد لقمہ اجل بن گئے ۔جبکہ ماں بیٹا زیر علاج ہے جن میں سے بچے کی حالت ہسپتال میںنازک بنی ہوئی ہے ۔ اس واردات سے علاقے میں کہرام مچ گیا اور علاقہ ماتم کدے میں تبدیل ہوا ۔اس واقعے کے فورا بعد پولیس کے اعلیٰ افسران ، میڈیکل ٹیم ، ضلع انتظامیہ کے افسراور متعدد سیاسی لیڈران نے علاقے کا دورہ کیا ۔ جبکہ میڈیکل ٹیم نے کھانے کے نمونے حاصل کرکے جانچ کیلئے بھیج دیئے ہیں۔ ادھر اس سانحہ پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ، نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، پردیش کانگریس کے صدر طارق حمیدہ قرہ ، زیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی ، اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری اور دیگرلیڈران نے دکھ اور افسوس کااظہار کیا ہے ۔ اس دوران پولیس نے معاملے کی اعلیٰ سطح پر چھان بین شروع کردی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق راجوری ضلع کے ایک گاؤں میں ایک خاندان کے چار افراد، جن میں سے تین نابالغ تھے، مشتبہ فوڈ پوائزننگ کی وجہ سے ہلاک ہو گئے،پولیس نے بتایا کہ ایک بچہ اور اس کی ماں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کوٹرنکا بدھل علاقہ کے کنڈی گاؤں میں اپنے گھر میں کچھ کھانا کھانے کے بعد پورا خاندان بیمار ہوگیا اور بعد میں انہیں ایس ایم ایچ ایس اسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے چار کی موت ہو گئی اور دو دیگر ماں اور بچے کے طور پر زیر علاج ہیں۔ خاتون ماں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ فضل حسین ولد نظام دین اور خاندان کے پانچ افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا اور ان میں سے چار کی موت ہو گئی۔ مرنے والوں میں 40 سالہ فضل حسین، اس کی دو بیٹیاں رابعہ کوثر (15برس) اور فرمان کوثر (10برس) کے علاوہ اس کا 4 سالہ بیٹا رفتار احمد شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حسین کی بیوی شمیم اختر (38سالہ) اور 12 سالہ بیٹا رخسار احمد زیر علاج ہیں۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں کے حوالے سے افسر نے بتایا کہ رخسار کی حالت بدستور سنگین ہے۔انہوں نے کہا کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ دریں اثناء اس واقعے کی وجہ سے علاقے میںکہرام مچ گیا اور لوگوں کی بھاری بھیڑ جائے موقع پر پہنچ گئی ہے ۔ ایک ہی کنبہ کے چار افراد کی موت سے نہ صرف راجوری ضلع بلکہ پورے پیر پنچال خطے میں غم و اندہ کی لہر دوڑ گئی ہے ۔اس بیچ اس واقعے پر جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ، ، نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، پردیش کانگریس کے صدر طارق حمیدہ قرہ ، زیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی ، اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری، سجاد غنی لون اور دیگر سیاسی اور سماجی شخصیات نے دکھ اور افسو س کااظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کااظہار کیا ہے اور زیر علاج ماں بیٹے کی جلد صحتیابی کی دعاکی ہے ۔