جموں کشمیر کی ترقی میں حائل رکاوٹوںکو دور کیاگیا

دہشت گردی اور پاکستان کیساتھ مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے :راج ناتھ سنگھ

سری نگر//وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعہ کو کہاکہ ہندوستان نے پاکستان سے واضح طور پر کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی نہ صرف سرحد کے اس طرف بلکہ ضرورت پڑنے پر ان کی طرف سے بھی کی جائے گی۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق وزیر دفاع نے نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ لوگ کہتے تھے کہ آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا گیا تو پورا کشمیر جل جائے گا۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ کچھ واقعات کو چھوڑ کر جموں و کشمیر پرامن ہے۔جموں خطہ کے راجوری اور پونچھ میں اس سال جون سے دراندازی کی کوششوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں الگ الگ انکاؤنٹر میں9 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔مرکز نے5، اگست ۹۱۰۲ کو جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل370 کو ختم کر دیا تھا۔راجناتھ سنگھ نے کہاکہ یہ سچ ہے کہ ہماری دشمن طاقتیں بے چین ہیں۔ انہوںنے کہاکہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وادی کشمیر میں دہشت گردوں کا اعتماد ٹوٹ گیا ہے۔11، اکتوبر سے، ہندوستانی فوج جموں و کشمیر کے جڑواں سرحدی اضلاع پونچھ اور راجوری میں چھپے دہشت گردوں کا پتہ لگانے کیلئے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کر رہی ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان بہت کوشش کرنے کے باوجود کشمیر کے موضوع پر کوئی حمایت حاصل نہیں کر سکا۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ ’’مودی جی نے دہشت گردی کیخلاف ہندوستان کے رویے کو نئے سرے سے ڈیزائن کیا ہے اور اس کی وضاحت کی ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے حاضرین سے مخاطب ہوکرکہاکہ یاد رکھیں، پہلے کی حکومتوں کے دوران دہشت گردوں کے خلاف کتنا نرم رویہ رکھا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی کے واقعات ہوتے تھے تو انہیں محفوظ راستہ دینے کی بات ہوتی تھی، پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے یا نہ کھیلنے کی بات ہوتی تھی۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کاکہناتھاکہ ’’اب صورتحال بدل گئی ہے، ہماری حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔انہوںنے کہاکہ پچھلے کچھ سالوں سے، ہم نے پاکستان کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت بند کر دی ہے۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کاکہناتھاکہ ’’اب ہم (کرکٹ) میچ کھیلنے یا نہ کھیلنے کی بات نہیں کرتے۔ اس کے بجائے، ہم نے واضح طور پر کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ سرحد کے اِس طرف اور ضرورت پڑنے پر سرحد کے دوسری طرف بھی۔