yateem Foundation

جے کے یتیم فاونڈیشن کا سماجی خدمات میں بدلتے ہوئے رجحانات کو اپنانے کااعادہ

سرینگر / / کولگام میں جے کے یتیم فاونڈیشن کی جانب سے منعقدہ تین روزہ صلاحیت سازی پروگرام اختتام کو پہنچ گیا جس دوران مقررین نے فاونڈیشن کے رضاکاروں پر زور دیا کہ وہ سماجی خدمت کے میدان میں جدید طریقوں کو اپنائیں تاکہ فیلڈ میں دورِ حاضر کے چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ تفصیلات کے مطابق بیت الہلال کولگام میں جے اینڈکے یتیم فاونڈیشن کی جانب سے فاونڈیشن سے وابستہ رضاکاروں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے منعقدہ تین روزہ پروگرام 14ستمبر کواختتام کو پہنچ گیا۔ تین روزہ ورکشاپ جے کے وائی ایف کی مسلسل کوششوں کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد میدانِ عمل میں سماجی خدمات کے دوران درپیش موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے رضاکاروں کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔ اس موقعہ پر مقررین نے عاجزی، انکساری اور جذبہ ایثار کو انسانیت کی خدمت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے رضاکاروں کو سماجی خدمات کے شعبہ میں دورِ حاضر کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے جدید تیکنالوجی کو اپنانے پر زور دیا۔ تقریب میں کشمیر کے متعدد علاقوں بشمول ڈوڈہ، کشتواڑ، پونچھ اور راجوری کے دور افتادہ علاقوں سے 180سے زائد سینئر رضاکاروں نے حصہ لیا۔ مقررین نے رضاکاروں کے خلوص اور ہمدردی کو سراہتے ہوئے انہیں بطور رضاکار اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا مشورہ دیا تاکہ وہ پیشہ ورانہ انداز میں غریب سے غریب تر اور ضرورتمند افراد کی مدد کر سکیں۔ اس موقعہ پر نامور کالم نگار اور مصنف ڈاکٹر معروف شاہ نے اپنے خطاب میں وقت کا موثر انداز میں تصرف پر زور دیا تاکہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ اور موثر نتائج حاصل کئے جاسکیں۔ انہوں نے کتاب پڑھنے کو شخصیت کی نشوونما کا ایک لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے ایک ماہ میں کم از کم ایک کتاب ضرور پڑھیں۔ اس سے قبل چیئرمین جے کے وائی ایف محمد احسن راتھر نے اپنے استقبالیہ خطاب میں رضاکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی روز مرہ کی سرگرمیوں میں تنظیمی نظم و ضبط پر عمل کریں۔ رفیق احمد میر ڈسٹرکٹ سیکریٹری جے کے وائی ایف شوپیان نے ’’قرآن کی روشنی میں رضاکاروں کی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کسی بھی تفریق سے قطع نظر انتہائی خلوص کے ساتھ سماجی خدمت کے پیغام سے بھرپور ہے۔ اس موقعہ پرسینئر رضاکار نثار الحق نے ’’حدیث کی روشنی میں رضاکار کی خوبیاں‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے رضاکاروں پر زور دیا کہ وہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے بے سہارا لوگوں کے دکھوں کو کم کرنے کے لیے مخلصانہ کام کریں۔ انہوں نے رضاکاروں کو سختی سے مشورہ دیا کہ وہ مستحقین سے براہ راست یا بالواسطہ کوئی بھی فائدہ اٹھانے سے گریز کریں اور بے لوث کام کریں۔اس موقعہ پرڈاکٹر شیخ عارزفزیوتھیراپسٹ نے ’’فسٹ ایڈ ٹریننگ‘‘ کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے سماجی خدمت کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کچھ اہم اور با مقصد نکات کو اجاگر کیا۔ شرکاء سیشن سے خوب لطف اندوز ہوئے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر اْن کے بتائے ہوئے نکات کو نتیجہ خیز قرار دیا۔ فزیو تھراپی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اچانک بیماریوں جیسے ہارٹ اٹیک سے ابتدائی طبی امداد سے بچا جا سکتا ہے۔اس موقعہ پرڈاکٹر محمد اشرف ڈار اسسٹنٹ پروفیسر آئی ایم پی اے نے پی آر اے تکنیک اور کمیونٹی موبلائزیشن کے ذریعے شراکتی منصوبہ بندی کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے رضاکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ PIP اور POP ماڈلز کو غریبوں کی شناخت اور فلاحی پروگراموں میں ان کی شرکت کے لئے استعمال کریں۔ تمام رضاکار اْن کی تدریسی تکنیک سے بہت متاثر ہوئے۔اس موقعہ پر ذوالفقار شاہین ایس پی کلگام نے ’’منشیات کا قلع قمع کرنے میں رضاکاروں کے کردار‘‘ کے موضوع پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے منشیات کے استعمال اور دیگر سماجی برائیوں کے خاتمے میں انتظامیہ کی مدد کرنے کے لئے شرکاء سے تعاون طلب کیا۔ انہوں نے جے کے وائی ایف کو اپنے رضاکاروں کی صلاحیت کو نکھارنے پر سراہا۔اس موقعہ پر ماہر تعلیم بشیر طالب نے تعلیمی نظام میں پالیسی شفٹ پر بات کرتے ہوئے جے کے وائی ایف کی انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ یتیموں اور دیگر طلباء￿ کو بااختیار بنانے کے لیے ہنر پر مبنی تعلیم پر توجہ دیں۔ اس موقعہ پرفیروز احمد ، سی ای او ، ایچ ڈبلیو وی او ، نے ’’ضروورت مند بچوں کے لئے متبادل دیکھ بھال اور رضاکاروں کے کردار‘‘ کے موضوع پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے متبادل دیکھ بھال کے ذریعے ہنر پر مبنی تعلیم پر زور دیا۔ اس دوران محمد امین بٹ ضلع نمائندہ پلوامہ نے ہم عصر دنیا میں رضاکارانہ خدمات کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے معاشرے میں والدین کو ان کے اپنے بچوں کی طرف سے نظر انداز کرنے کے کچھ دردناک واقعات کا تذکرہ کیا ذکر اور کمیونٹی کے اشتراک سے اس طرح کے مسائل سے نمٹنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔اس موقعہ پر شاہنواز بخاری (کے اے ایس) نے فاونڈیشن کے فلاحی کاموں کی تعریف کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تنظیم کو اپنے کام میں شفافیت لانے کے لیے سماجی آڈٹ کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے طلباء کی تعلیم کو ترجیح دینے کے لئے منتظمین پر زور دیا۔اس موقعہ پراسسٹنٹ کمشنر سنٹرل( ڈویڑنل کمشنر ) عزیز احمد (کے اے ایس) نے ’’رضاکار رہنما ہیں‘‘ کے موضوع پر بات کی۔ انہوں نے ضرورت مندوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے ایک رضاکار کے کردار کے بارے میں طویل تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے رضاکاروں کو مشعل بردار بننے کی تاکید کی تاکہ اندھے پیروکاروں کے بجائے نئے رہنما پیدا ہوں۔اس موقعہ پرسوشل سروس میں میڈیا کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے سینئر آئی آئی ایس آفیسر غلام عباس نے سماجی خدمت کے پیغام کو پھیلانے میں میڈیا کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایس سی، ایس ٹی اور دیگر پسماندہ طبقوں جو فلاحی پروگراموں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے،میں کمیونٹی موبلائزیشن پروگرام شروع کیے جائیں۔آخر پرسابق چیئرمین محمد رفیق لون نے تحریک شکرانہ پیش کیا۔انہوں نے اشکبار آنکھوں سے فاونڈیشن سے وابستہ مرحوم محمد اسداللہ ملک عرف ماماجی پٹن’جاوید اقبال گنائی ‘حامد حسین لون بارہ مولہ’الطاف حسین ریشی سوپور’غلام محمد بابا و فاروق احمد میر سرینگر ‘قاضی تحسین حسین کشتواڈ ‘محمد عباس ماگرے مڑوہ ‘غلام محمد راتھر گاندربل جو کہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں کی خدمات کو یاد کرتے ہوے انہیں خراج عقیدت ادا کیا۔واضح رہے کہ بیت الہلال کولگام کے سکالروں نے تین روزہ ورکشاپ کے دوران مختلف پروگرام پیش کیے۔ورکشاپ کے دوران سات سیشنوں کا انعقاد کیاگیا جن کی نظامت کے فرائض جاوید جواد، نذیر احمد، پیر محمد امین، ڈاکٹر طارق احمد ملک، محمود الریاض اور محمد اقبال بیگ نے انجام دئے۔ رضاکاروں حافظ شاہد نذیر ‘حافط شبیر احمد محمود الریاض ‘فیاض احمد بٹ ‘محمد امین بٹ’غلام نبی کھانڈے اور بشیر احمد پیر نے تلاوت قران پاک کا فریضہ ادا کیا جبکہ فاروق احمد ، انجینئر پیر عادل اور شاہد مجید نے مختلف سیشنوں کے دوران نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کیں۔منعقدہ تین روزہ پروگرام میں کووڈ۔ 19 وبائی بیماری کے پیش نظر ، تمام شرکاء نے بنیادی ایس او پیز پر عمل کیا جن میں چہرے پر ماسک پہننا، مناسب جسمانی فاصلہ برقرار رکھنا اورہاتھوں کو اچھی طرح دھونا اور جگہ کی مناسب صفائی کو یقینی بنانا شامل ہے۔