72بوٹوںمیں رہائش پذیر خاندانوںکی بحالی وبازآبادکاری کامطالبہ
سری نگر/نعیم الحق/دریائے جہلم کے سینکڑوں ہاؤس بوٹ مالکان نے ہفتے کے روز یہاں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اورتباہ شدہ یاخستہ حال ہائو بوٹوںمیں رہنے والے72 خاندانوں کی بحالی وبازآبادکاری کا مطالبہ کیا۔انہوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ سردیوں کے قریب آتے ہی جلد از جلد بحالی کی جائے۔ جہلم ہاؤس بوٹ مالکان کی یونین کے جھنڈے تلے درجنوں متاثرہ ہائوس بوٹ مالکان سنیچر کو پریس انکلیو سری نگر میں نمودار ہوئے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھائے احتجاجی جہلم ہاؤس بوٹ مالکان نے کہاکہ 72ہائو س بوٹ مختلف وجوہات اورحادثات کے بموجب تباہ ہوئے ہیں یاکہ خستہ حال ہوچکے ہیں،اوران ہائوس بوٹوںمیں رہنے والے72خاندان کسمپرسی کی حالت میں ہیں ۔جہلم ہاؤس بوٹ مالکان کی یونین کے صدر نور محمد نے کہا کہ محکمہ سیاحت نے 2018 میں ان کے ہاؤس بوٹس کو رجسٹر کیا تھا اور اُنہیں نوگام میں بحالی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن آج تک ہم دفتر سے دفتر چکرکاٹ رہے ہیں۔ لیکن متعلقہ افسروں کوئی پرواہ نہیں کرتا۔نور محمد نے کہا کہ جیسے جیسے موسم سرما قریب آرہا ہے، ہمارے ہاؤس بوٹس سردیوں میں رہنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ وہ کسی بھی وقت پانی میں ڈوب جائیں گے کیونکہ ہم میں سے کسی نے کسی ہائوس بوٹوں کی مرمت نہیں کی ہے۔انہوںنے کہاکہ پھر بھی سیاحت کے حکام نے ہماری کشتیوں کی رجسٹریشن ختم کر دی ہے۔جہلم ہاؤس بوٹ مالکان کی یونین کے صدر نے کہا کہ ہم ڈپٹی کمشنر سری نگراورڈویژنل کمشنرکشمیر کے پاس گئے اور یہاں تک کہ بازآبادکاری کا حکم بھی جاری کیا جا چکا ہے لیکن پھر بھی کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہاؤس بوٹس کے مالکان انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سردیوں سے پہلے ہماری بحالی کریں اور ہمارے خاندانوں کو بچائیں۔










