سیاحت کو فروغ دینے کیلئے رام گڑھ سانبہ میں چملیال مزار کے قریب ’’ہوم اسٹے ‘‘ کی تعمیر کو منظوری مل گئی
سرینگر // ہند پاک کی جانب سے جنگ بندی معاہدے پر مکمل طو رپر عملدر آمد کے بعد گزشتہ تین سالوں سے جموں کشمیر کے سرحدوں علاقوں میں امن کی فضا لوٹ آئی ہے اور اب سرحدی علاقے سیاحوں کی پسند بن چکی ہے ۔ اس کے چلتے جموں کے سانبہ ضلع میں جموں کشمیر انتظامیہ نے حال ہی میں رام گڑھ سیکٹر میں مشہور بابا چملیال مزار کے قریب میں ’’ہوم اسٹے ‘‘ کی تعمیر کو منظوری دی ہے تاکہ سرحدوں پر امن کے درمیان سرحدی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر کے سرحدوں پر گزشتہ تین سال سے امن قائم ہے اور لوگ اپنے کاروبار و دیگر سرگرمیوں میںمصروف عمل ہے ۔ اس سب کے بیچ اب جموں کشمیر انتظامیہ سرحدی علاقوں میں سیاحت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی تازہ پہل کے تحت جموں و کشمیر انتظامیہ نے حال ہی میں رام گڑھ سیکٹر میں مشہور بابا چملیال مزار کے قریب میں ہوم اسٹے کی تعمیر کو منظوری دی ہے ۔ ماضی میں پاکستان بھارت تعلقات کی علامت سمجھے جانے والے، زیرو لائن پر واقع بابا چملیال کا مشہور مزار ملک بھر سے ہزاروں عقیدت مندوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، خاص طور پر سال کے وسط میں سالانہ میلے کے موقع پر یہاں کافی رش ہوتا ہے۔سالانہ میلے کے دوران پاکستان سے وفود مزار پر حاضری دینے کیلئے آتے تھے لیکن 13 جون 2018 کو سرحد پار سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک اسسٹنٹ کمانڈنٹ سمیت چار بی ایس ایف اہلکار ہلاک ہونے کے بعد یہ مشق روک دی گئی۔اب جب کہ جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدر آمد ہوئی ہے اور سرحدوں پر امن لوٹ آیا ہے تو سانبہ کے ایک سابق سرپنچ موہن سنگھ بھٹی اپنے آبائی گھر پر سیاحوں کا استقبال کرنے کیلئے تیار ہیں۔ بھٹی جنہوں نے فتووال کے اپنے گائوں داغ چنی میں ایک دو منزلہ ہوم اسٹے بنایا ہے، اس نے دوہری مقصد کے ساتھ ایک اچھی طرح سے لیس زیر زمین بنکر بھی تعمیر کیا ہے تاکہ سیاحوں کو سرحدوں پر رہنے کا احساس دلایا جا سکے اور حفاظتی اقدام کے طور پر کسی سرحد پار سے گولہ باری کی صورت میں نقصان کی روک تھام کی جا سکے۔بھٹی نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا،’’ آپ کے بارڈر کے دورے پر، آپ کو سب کچھ نظر آئے گا لیکن بنکر نہیں، جسے ہم سرحد پار گولہ باری کے دوران استعمال کر رہے ہیں۔ جس نے یہ بنکر نہیں دیکھا (سرحد کے دورے کے دوران) اس نے کچھ نہیں دیکھا‘‘۔انہوں نے زیر زمین بنکر بھی تعمیر کیا ہے تاکہ دوسری طرف سے فائرنگ یا گولہ باری کی صورت میں زائرین کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔










