جموں// جموں وکشمیریوٹی دیگر رِیاستوں اور یوٹیوں کے درمیان کامیابی اور ملک کے لئے سماجی و اِقتصادی ترقی کا ماڈل بننے کے لئے تیار ہے۔حکومت نے اِس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے بجٹ 2022-23ء میں دیہی شعبے کے لئے ان علاقوں کی ترقی اور ان کی حیثیت کو بلند کرنے کے لئے ایک قابل ذکر رقم مختص کی ہے۔
دیہی معیشت
جموںوکشمیر کی کل آبادی میں سے زائد اَز 70 فیصد دیہی علاقوں میں رہتے ہیں ۔ دیہی علاقوں کی ترقی جموںوکشمیر کی مجموعی ترقی کی کلید ہے ۔ دیہی شعبے کو اہم سرمایہ کاری ،ترقیاتی اِمداد اور یقینی بنانے کے لئے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔دیہی شعبے کے لئے سال 2022-23ء کے لئے کیپٹل ایکس پنڈیچر کے تحت تقریبا ً 4,627.85کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو کہ گذشتہ برس کے بجٹ مختص سے 327.40 کروڑ روپے زیادہ ہے۔جموں و کشمیر کے لئے حال ہی میں اعلان کردہ بجٹ میںمنریگا کے تحت سال 2022-23 ء کے دوران 426 لاکھ ایام کار پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے ۔ اِس کے علاوہ مطالبہ کی بنیاد پر 60,000 جاب کارڈ جاری کرنے کی تجویز ہے اور مختلف نوعیت کے ایک لاکھ ترقیاتی کام شروع کئے جائیں گے اور ان کے مکمل ہونے کی اُمید ہے۔راشٹریہ گرام سوراج ابھیان ( آر جی ایس اے ) کے تحت 1,500 منتخب نمائندوں کو جموںوکشمیر یوٹی کے باہر ترغیبی دورہ فراہم کیا جائے گا۔ 1,12,000 شرکأ(پی آر آئیز/لائن ڈیپارٹمنٹ آفیسران/افسران) کو مرحلہ وار صلاحیتوں میں اِضافے اور ریفریشر ٹریننگ دی جائے گی۔مزید یہ کہ جموںوکشمیر یوٹی میں تمام گرام پنچایتوں کو اِنٹرنیٹ کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی اوربالترتیب 400نئے اور 300 موجودہ پنچایت گھر تعمیر اور تزئین و آرائش کے لئے لئے جائیں گے۔نئے بجٹ کے تحت 2022-23ء کے دوران پردھان منتری آواس یوجنا گرامین ( پی ایم اے وائی ۔ جی) کے تحت 54,000 مکانات تعمیر کئے جائیں گے ۔ سوچھ بھارت مشن گرام ( ایس بی ایم ۔ جی) کے تحت 2022-23ء کے دوران 87,250 اِنفرادی گھریلو بیت الخلاء ( آئی ایچ ایچ ایل) اور 2,500 کمیونٹی سینٹری کمپلیکس ( سی ایس سی ) کی تعمیر کا ہدف ہے۔
سڑک رابطے
سڑک اور پُل شعبے کی خاطرسال2022-23ء کے لئے کیپٹل ایکس پنڈیچر کے تحت تقریباً 5,217.87 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ سال 2022-23ء کے دوران پی ایم جی ایس وائی ۔ III کی منظور ی ملنے کے بعد 1,750 کلومیٹر لمبی سڑک کی اَپ گریڈیشن کا اِمکان ہے ۔ سینٹرل / یونین ٹیریٹری سیکٹر سکیموں کے تحت 2022-23ء کے دوران 50پُل مکمل کئے جائیں گے۔جموںوکشمیر کی حکومت نے پبلک ورکس ( سڑکوں او رپُلوں ) کے محکمے میں تیسرے فریق کے معائینے کا طریقہ کار شروع کیا ہے ۔ مالی سال 2022-23ء سے تمام جاری کاموں کو تھرڈ پارٹی انسپکشن میکانزم کے دائرہ کار می لایا جائے گا۔حکومت جموںوکشمیر کے ذریعہ منظور شدہ روڈ مینٹی ننس پالیسی 2021 ء کے لحاظ سے 2022-23ء کے دوران موجودہ سڑک ڈھانچے کی دیکھ ریکھ پر توجہ دی جائے گی۔پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی)/شہروں اور قصبوں/سینٹرل روڈ اینڈ انفراسٹرکچر فنڈ (سی آر آئی ایف )/نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (این اے بی اے آر ڈی ) کے تحت2022-23ء کے دوران مجموعی طور پر 6,000 کلومیٹر سڑکوں کی بلیک ٹاپنگ حاصل ہونے کی امید ہے۔
ایک اچھا بنیادی ڈھانچہ اور وسیع رابطہ جموںوکشمیر یوٹی کی ترقی اور ترقی کے اہم عوامل ہیں۔ دیہی ترقی کے عمل میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی شرکت، منصوبہ بندی کی مرکوزیت اور کریڈٹ اور آدانوں تک زیادہ رسائی دیہی لوگوں کو معاشی ترقی کے بہتر امکانات فراہم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن (این آر ایل ایم ) کے تحت سال2022-23ء کے دوران 21,194 سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جیز) بنانے کی تجویز ہے، 20,000 ریوالونگ فنڈ اور 18,000 بینک لنکیج کو کور کرنے کا ہدف ہے۔حمایت( دین دیال اپادھیائے گرامین کوشلیہ یوجنا) کے تحت 2022-23ء کے دوران 14,067 نوجوانوں کو ہنر مندی کی تربیت اور 9,847 جاب پلیسمنٹ کی تجویز ہے۔ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل،بلاک ڈیولپمنٹ کونسل اورپنچایتی راج اداروں کے اراکین کے لئے رہائشی/دفتری رہائش کی تعمیر شروع کی گئی ہے۔ بجٹ 2022-23ء میں اس کے لئے 176.32 کروڑ روپے کا پروویژن رکھا گیا ہے۔










