سری نگر// روسی حملے بعدکے بعدجنگ زدہ ملک یوکرین میں پھنسے جموں و کشمیر کے تمام طلباء کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق سرکاری ذرائع نے سنیچرکو بتایا کہ جموں و کشمیر کے تقریباً 140سے145طلباء وطالبات جوجنگ چھڑجانے کے بعد یوکرین میں پھنسے ہوئے تھے، کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیرکے9 طلباء کا آخری گروپ پولینڈ کے راستے جمعہ کو رات دیر گئے دہلی پہنچا۔ذرائع نے مزید کہا کہ واپس آنے والے طلبہ کیلئے جموں و کشمیرحکومت نے دہلی میں ان کی رہائش اور دیگر متعلقہ چیزوں سمیت تمام انتظامات کئے ہیں۔سرکاری ذرائع نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا انخلاء کے عمل کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلباء دہلی میں جموں و کشمیر ہائوس یا بحفاظت اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ذرائع نے بتایاکہ جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے جو طلبہ ابھی بھی دہلی میں واقع جمو ں وکشمیر ہائوس میں ٹھہرے ہوئے ہیں ،اُن کوجلد اپنے اپنے گھر روانہ کیاجائیگا۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ چھڑجانے کے فوراً بعد وہاںپھنسے بھارتی شہریوں بشمول طلبہ کے انخلاء کا عمل شروع ہوا تھا،اورمختلف راستوں سے درماندہ شہریوں اورجموں وکشمیر کے طلبہ کوخصوصی پروازوں کے ذریعے نئی دہلی پہنچایاگیا،جہاں سے وہ اپنے اپنے گھروں کوروانہ ہوگئے ۔دریں اثنا، جے اینڈ کے اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے ترجمان، ناصر کھوہامی نے طلباء کے محفوظ انخلاء کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
30دن میں ایران کے خلیجی ممالک پر 5200میزائیل حملے
’آبنائے ہرمز‘ معاملہ سے ٹرمپ کے الگ ہونے پر ایران کا کھلا آفر ’ہم سے آ کر ڈیل کیجیے‘
جنگ میں کھل کر ایران کی حمایت کرنے والے اسپین پر آئی مصیبت، گھیرا بندی کی تیاری میں امریکہ
ٹرمپ کی ایران کو پتھروں کے دور میں بھیجنے کی دھمکی
پچھلے 5سالوں میں روزانہ 20سے زیادہ ہندوستانی کارکن کی بیرون ملک میں اموات :سرکاری اعداد و شمار
دہلی- این سی آر میں 462فیکٹریوں پر لٹکی تلوار، آلودگی کے سبب سی پی سی بی نے جاری کیا الٹی میٹم
نتیش کمار 10اپریل کو راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر حلف لیں گے
ایل پی جی کی قلت کے سبب کانپور کی ’بدنام قلفی‘ غائب، گرمی میں ٹھنڈی چُسکی نہ ملنے سے لوگ مایوس
کیرالہ میں وزیر اعظم مودی اور ایل ڈی ایف پر جم کر برسیں پرینکا گاندھی، پینارائی وجین کو ’مودی کی بی-ٹیم‘ قرار دیا
اے اے پی نے راگھو چڈھا کو ہٹانے کا مطالبہ کیا، انہیں راجیہ سبھا میں بولنے سے روکنے کو کہا










