موسم سرماشروع ہونے سے قبل ہی بجلی کٹوتی ،شہرودیہات میں لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا ،حکومت وعدوں کا ایفاکرے
سرینگر / کے پی ایس //جموں وکشمیر میں کئی دہائی قبل بجلی کی ترسیل کے حوالے سے اس وقت کے تقاضوں کے مطابق اقدام اٹھائے گئے ہیں اور میدانی علاقوں میں بجلی کی ترسیل کو یقینی بنانے کیلئے حسب وسعت کام کیا گیا تھا لیکن زمانے کی یکایک تبدیلی کے بعد بجلی کے استعمال کے تقاضے بھی تبدیل ہوتے گئے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے اس تیز رفتار اور ٹیکنالوجی کے زمانے میںبھی کئی علاقوں میں آج بھی وہی کھمبے اور ترسیلی لائنیں موجود ہیں جو اب بوسیدہ ہوچکے ہیں اور شہر ودیہات میں بجلی کی عدم دستیابی کو لیکر لوگ سال بھر سراپا احتجاج ہوتے ہیں جبکہ بجلی کی آنکھ مچولی یا گھپ اندھیرے کے حوالے سے آئے روز اخبارات کوشکایا موصول ہوتی رہتی ہیں ۔پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین و افسران کی لاپرواہی اور عدم توجہی کے خلاف ہر جگہ پر لوگ نالاںدکھائی دے رہے ہیں اور گھنٹوں ہا سڑکوں پرخیمہ زن ہوکر ٹریفک کی نقل وحرکت بھی روک دیتے ہیں۔جس سے مسافر درماندہ ہوکررہ جاتے ہیں لیکن محکمہ کے افسران نظام میں بہتری لانے سے قاصر رہتے تھے اس کی بنیادی وجہ نظام کو مستحکم بنانے کیلئے ان کے پاس وسائل موجود نہیں تھے جس کے نتیجے میں یقین دہانیوں کے باجود بھی کچھ کرنہیں سکتے تھے ۔ یہاں کے لوگ ناقص بجلی نظام سے کافی حد تنگ آچکے ہیں ۔لیکن وادی میں اس حوالے سے کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوسکی بلکہ وادی میں موسم سرما شروع ہوتے ہی بجلی کٹوتی کاسلسلہ جاری ہوا ۔اس سلسلے میں مختلف علاقوں سے بجلی کے ناقص نظام کے حوالے سے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے جس طرح مقناطیسی عمل کا آغاز کیا وہ اطمینان بخش تھا ۔لیکن ٹیکنالوجی کے اس تیز رفتار زمانے میں یہاںکے شہری اور دیہی علاقوں میں بیشتر اوقات گھپ اندھیرا چھایا رہتا ہے کیونکہ یا تو اورلوڈنگ کا بہانہ بنا کر آنکھ مچولی کاسلسلہ شروع کیا جاتا ہے یا بوسیدہ بجلی کھمبوں و ترسیلی لائنوں کے گرنے یا ناقابل صلاحیت ٹرانسفارمروں کے خراب ہونے سے بجلی سے محروم رکھا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دوسال قبل بجلی فیس سے دوگنا اضافہ کیا گیا اورلوگ بجلی فیس کی ادائیگی کو بھی یقینی بنانے کی ہرممکن کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی بجلی سپلائی ہمیشہ متاثر رہتی ہے ۔محکمہ پی ڈی ڈی نے بجلی سپلائی کیلئے جو شیڈول ترتیب دیا ہے اس کی نچلی سطح پردھجیاں اڑائی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے یہ مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے تاہم بجلی کی معقول فراہمی کیلئے سرکار نے جو انقلابی اقدام اٹھائے ہیں اور اس سے عوام میں پریشانیوں کاازالہ ہونے کی امید بڑھ گئی تھی ۔انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وادی کشمیر میں بھی ترقیاتی پروجیکٹوں کے ذریعے بجلی نظام کو مستحکم بنانے میں کلیدی اقدام اٹھائے جائیں گے تاکہ حسب وعدہ بجلی سپلائی بغیر کسی خلل کے جاری رکھی جائے گی ۔










