جموںوکشمیر میں روزگار کے تعلق سے نوجوانوں کو مشکلات

رائج شدہ اسکیموں سے بے روز گارنوجوان ناواقف یا رسائی ملنے سے محروم ، نوجوانوں میں بیداری مہم چلانے کی ضرورت

سرینگر / /جموں کشمیر میں روزگار کے تعلق سے نوجوانوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ نوجوانوں کیلئے روزگارحاصل کرنے کیلئے شہروںکی طرف رخ کرنا پڑتا ہے۔ خود روزگار پر مبنی اسکیموںسے متعلق عام نوجوان ناواقف ہوتے ہیں اور بہت ہی کم تعداد میں نوجوان ان اسکیموں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ کیونکہ نوجوانوں کو ان اسکیموں تک پہنچنے کی رسائی نہیں ملتی ہے ۔ اس با ت میں شک نہیں ہے کہ روزگارکے بارے میں متعلقہ محکمہ جات کی غیر سنجیدگی اور کام میں عدم دلچسپی سے بہت سارے نوجوان اب خود روزگار کی اسکیموں سے استفادہ نہیں کرتے ہیں۔بلکہ ان بے روزگاروں کی خاطرکئی ایسے ا شخاص کی مثالیںپیش کرسکتے ہیں جو زیادہ پڑھا لکھا نہ ہونے کے باوجود بھی نہ صرف اپنے روزگار کو احسن طریقے سے چلاتے ہیںجبکہ چند اور افراد بھی ان کے ذریعے روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ بے روزگاری نے یہاں ہر طرف اپنا جال بچھایا ہے اور نوجوان طبقہ بے روزگاری کی وجہ سے ذہنی کوفت کے شکار ہورہے ہیں ۔اگر چہ سرکاری سطح پر خود روزگار اسکمیں متعارف کی جارہی ہیں ۔لیکن ان اسکیموں کے حوالے سے یا تو تشہیر کا فقدان رہتا ہے یا تشہیر کرکے نوجوان اس کی طرف دھیان دینے سے قاصر رہتے ہیں یا متعلقہ ذمہ داراں بے روزگاروں کو ان اسکیموں کی طرف ابھارنے سے متعلق عدم توجہی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔اخبارات ،ریڈیویا ٹیلی ویژنز یا سوشل میڈیا کی مختلف ویب سائٹس پر جن اسکیموں کی تشہیر کی جاتی ہے ۔ان اسکیموں سے اگرچہ عام بے روزگار نوجوان استفادہ چاہتے ہیں لیکن ان کو متعلقہ افسران تک پہنچنے کی رسائی نہیں ملتی ہے یا وہ اسکیم کو حاصل کرنے کے حوالے سے ضروری لوازمات کو پورا کرنے کی جانکاری نہیں رکھتے ہیں اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ان اسکیموں سے منظور نظر افراد ہی مستفید ہوجاتے ہیں جبکہ عام اور غریب عوام کا ان سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ہے ۔اس ضمن میں کئی افراد نے کشمیر پریس سروس کو بتایا کہ یہاں تعلیم یافتہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دستکاری اور مختلف ہنروں کے ماہر ہیں ۔لیکن ان کو محکمہ ہینڈی کرافت میں رائج شدہ اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کا موقعہ فراہم نہیں کیا جاتا ہے اور اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ محکمہ ہذا کے افسران خود روزگار کی اسکیموں کی طرف توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ہیں حالانکہ اگر محکمہ ہذا رائج شدہ اسکیموں کو اصول وضوابط کے مطابق عملانے کی کوشش کرے گا تو اس سے ایک تو روزگار کے وسائل پیدا ہونگے اور محکمہ کو بھی واپس ان سے فائدہ ملے گا جو خزانہ عامرہ کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح سے سرکاری سطح پر مشروم ،مچھلیوں ،ریشم وغیرہ کی پیدوار کو بڑھا وادینے ان سے متعلق روزگار تلاش کرنے کی اسکیمیں پہلے متعارف کی گئی ہیں لیکن ان اسکیموں کے تحت بے روزگار وں کو موقعہ فراہم نہیں کیا جاتا ہے ۔جہاں بھی بے روزگا ر نوجوانوں کو ان اسکیموں کے دائرے میں لایا گیا تو وہ خود روز گار کے تحت مستفید ہوئے اور وہ دوسروں کو بھی روزگار فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خود روزگار کی اسکیموں کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کرکے عام نوجوان ہنر مندوں ،دستکاروں اور تجربہ کاروں کو فائدہ اٹھانے کا موقعہ فراہم کریں اور متعلقہ افسران بے روزگاروں کو ان اسکیموں کے تحت فائدہ اٹھانے کیلئے ابھارنے میں اپنا رول ادا کریں تاکہ بے روزگاری پر کسی حدتک قابو پایا جاسکے ۔